LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں محاصرہ مزید سخت، مہنگائی میں ہوشربا اضافہ

News Image
اسرائیل کی جانب سے غزہ پر سخت محاصرے کے باعث خطے میں شدید توانائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اس مشکل ترین صورتحال میں ہلکے لائیٹرز اور پنکھے غزہ کے باسیوں کے لیے توانائی کا بنیادی سہارا بن چکے ہیں۔
فلسطین کے محاصرہ زدہ علاقے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے ناکہ بندی کو مزید سخت کیے جانے کے بعد اشیائے ضروریہ اور توانائی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ اس طویل اور غیر انسانی محاصرے کے نتیجے میں غزہ کے لاکھوں شہریوں کو روزمرہ کی زندگی میں بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے، جہاں بجلی کی مسلسل عدم دستیابی نے انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ روایتی ذرائع ابلاغ اور ایندھن کی سپلائی لائنیں کٹ جانے کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ اس سنگین توانائی بحران کے دوران، مقامی آبادی نے مجبوری کے تحت بقا کے متبادل اور انوکھے طریقے تلاش کر لیے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں بیٹریاں چلانے والے چھوٹے پنکھے اور ہلکے سستے لائیٹرز غزہ کے باسیوں کے لیے توانائی اور روشنی کا بنیادی اور اہم ترین سہارا بن چکے ہیں۔ شدید گرمی اور حبس کے دوران یہ چھوٹے پنکھے شہریوں خصوصاً بچوں اور بیمار افراد کے لیے کسی غنیمت سے کم نہیں ہیں، جبکہ لائیٹرز اندھیرے میں روشنی کا واحد ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ کی اس ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر امدادی سامان اور ایندھن کی ترسیل بحال نہ کی گئی تو یہ بحران ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ شہریوں کو پینے کے صاف پانی، ادویات اور خوراک کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے، جو محاصرے کی شدت میں مزید اضافے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دوسری جانب، مقامی تاجروں اور عوام کا کہنا ہے کہ محدود اشیاء کی درآمد اور اسمگلنگ کے خطرات کی وجہ سے مارکیٹ میں ہر چیز کی قیمت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ عام شہریوں کی قوت خرید جواب دے چکی ہے، اور وہ اپنے اہل خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی اور بنیادی سہولیات حاصل کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ غزہ کے باسی اس کٹھن دور میں بھی انتہائی حوصلے کے ساتھ حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں لیکن عالمی برادری کی خاموشی پر سوالیہ نشان برقرار ہے۔