World
بشار الاسد کو سزائے موت کا حکم، شام میں جشن کا ماحول
شام کی ایک عدالت نے معزول صدر بشار الاسد کو غیر حاضری میں سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد شامی عوام نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا اور اسے تاریخی کامیابی قرار دیا۔
دمشق: شام کے معزول صدر بشار الاسد کو ایک عدالت کی جانب سے غیابانہ طور پر سزائے موت سنائے جانے کے بعد ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فیصلے کی خبر سامنے آتے ہی شام کے مختلف شہروں میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور انہوں نے اس عدالتی فیصلے کو تاریخی انصاف قرار دیتے ہوئے بھرپور جشن منایا۔ شہریوں نے اس موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور ماضی کے مظالم کے خلاف آواز بلند کی۔ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے شامی عوام طویل عرصے سے انصاف کے متلاشی تھے، اور اس عدالتی فیصلے کو متاثرین کے لیے ایک بہت بڑی تسلی سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ ملک کے سیاسی اور قانونی نظام میں ایک نئے باب کا آغاز ہے، جس سے طویل خانہ جنگی کے دوران متاثر ہونے والے خاندانوں کو کسی حد تک ریلیف ملا ہے۔ اگرچہ بشار الاسد اس وقت ملک میں موجود نہیں ہیں، تاہم اس قانونی کارروائی اور عدالتی حکم کو ایک اہم علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ جرائم کا حساب کتاب لازمی ہے۔ شامی عوام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان تمام لوگوں کی قربانیوں کا اعتراف ہے جنہوں نے ملک میں تبدیلی اور جمہوریت کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔