World
آئی سی سی کے خلاف پابندیاں، حقوقِ انسانی تنظیموں کی طرف سے نیا قانونی چیلنج
نامور حقوقِ انسانی تنظیموں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف عائد پابندیوں کو آئینی حقوق کی پامالی قرار دیتے ہوئے چیلنج کر دیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عالمی عدالت کے منصفانہ اور اہم فرائض کی انجام دہی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے کام کرنے والی معروف تنظیموں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے خلاف شروع کی گئی مہم اور عائد کردہ پابندیوں کے خلاف ایک نیا قانونی چیلنج دائر کر دیا ہے۔ اس تازہ ترین قانونی اقدام کا مقصد عالمی عدالت پر لگائی جانے والی ان پابندیوں کو روکنا ہے جنہیں تنظیموں نے بنیادی آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
درخواست گزار تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں نہ صرف بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو کمزور کرتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے احتساب کے عمل کو بھی شدید متاثر کر رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے عدالت کے باضابطہ اور آزادانہ فرائض کی انجام دہی میں جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جو کہ عالمی امن اور قانون کی حکمرانی کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق، یہ مقدمہ آنے والے دنوں میں بین الاقوامی قانون، امریکی آئین اور عالمی اداروں کی آزادی کے تناظر میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے دفاع سے جڑے اداروں اور کارکنوں کو نشانہ بنانا جمہوری اصولوں کے منافی ہے، اور اس طرح کی پابندیوں کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔