Pakistan
میر رضا علی قتل کیس: کیمیکل اور ڈی این اے رپورٹس موصول، تفتیش جاری
کراچی میں وافلکس کے مالک میر رضا علی کے قتل کی تفتیش کرنے والے حکام کو کیمیکل اور ڈی این اے رپورٹس موصول ہو گئی ہیں، تاہم تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ شواہد تاحتمی اور حتمی سمت طے کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ دوسری جانب ورثا کے وکیل جبران ناصر نے پولیس کی کارکردگی اور شواہد کی مبینہ غبن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں پراسرار طور پر جاں بحق ہونے والے نوجوان کاروباری اور ریستوران 'وافلکس' کے مالک میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں تفتیش کاروں کو منگل کے روز کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ اور ڈی این اے رپورٹ موصول ہو گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈی این اے رپورٹ سے مقتول کی شناخت کی تصدیق ہو گئی ہے جس سے ان افواہوں کی تردید ہو گئی ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں کہ مقتول کوئی اور تھا۔ تاہم تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹس اتنی حتمی نہیں ہیں کہ ان کی بنیاد پر تفتیش کی حتمی سمت کا تعین کیا جا سکے، اور پولیس سرجن کی حتمی رپورٹ کے ساتھ ساتھ دیگر نمونوں کے نتائج کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق کیمیکل تجزیے سے تین اہم باتیں سامنے آئی ہیں جن میں مقتول کی قمیض کے پچھلے حصے پر گولی کے گزرنے کے سوراخ کے پاس بارود کے ذرات کی موجودگی شامل ہے، جو گولی لگنے کے داخلے کے مقام کی نشان دہی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ قمیض پر تیزاب کے نشانات اور خون میں 'بیوپیواکین' نامی بے ہوشی اور درد کش دوا کی موجودگی بھی پائی گئی ہے۔ البتہ جسم پر تیزاب کے جلنے کے کوئی نشانات موجود نہیں تھے اور نہ ہی خون میں پین کلر ملنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسے قتل سے پہلے کوئی بے ہوشی کی دوا دی گئی تھی۔ تفتیش کاروں کو اب بھی زخموں کے حوالے سے الجھن کا سامنا ہے کیونکہ پہلے پوسٹ مارٹم میں سینے پر سامنے سے گولی لگنے کا ذکر تھا جبکہ دوسرے پوسٹ مارٹم میں پیچھے سے گولی لگنے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب مقتول کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے پریس کانفرنس کے دوران پولیس کی تفتیشی ٹیم کے بعض افسران پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مقتول کی واحد ڈیجیٹل ڈیوائس، ان کی اسمارٹ واچ، کو ایس پی ایس آئی یو سمیع اللہ سومرو نے آٹھ روز تک غیر قانونی طور پر اپنے قبضے میں رکھا اور اس کا کوئی میمو تیار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مقتول کو قتل سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تیزاب پینے پر مجبور کیا گیا ہو سکتا ہے۔ جبران ناصر کا کہنا تھا کہ پولیس اس معاملے کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اصل قاتلوں کو بچایا جا سکے۔
ادھر سندھ کے آئی جی جاوید اوڈھو کی جانب سے تشکیل دی گئی نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے وقوعہ کے گردونواح میں جیوفینسنگ کرانے اور مقتول کے موبائل فون کا کال ڈیٹا ریکارڈ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس اور تفتیشی ٹیم نے خاندان کے افراد اور وکیل کے ہمراہ وقوعہ کا دورہ بھی کیا ہے۔ خاندانی ذرائع اور وکیل کا اصرار ہے کہ میر رضا علی ایک پرعزم اور خوشحال کاروباری شخص تھے اور یہ سراسر ایک قتل ہے جسے سازش کے تحت خودکشی یا حادثہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور تحقیقاتی اداروں کو اس کی تہہ تک پہنچنا چاہئے۔