AI
اے آئی ہائپ اور آئی ٹی سیکٹر کا کردار - نیکسورا نیوز
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی موجودہ مارکیٹنگ اور ہائپ نے ٹیکنالوجی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ٹی سیکٹر کا اپنا رویہ بھی اس ضرورت سے زیادہ بڑھ چڑھ کر پیش کیے جانے والے رجحان کا ذمہ دار ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ نے ایک نئی اصطلاح ہائپ انجینئرنگ کو جنم دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جب مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مارکیٹنگ خود ٹیکنالوجی سے زیادہ جدید اور پرکشش بن جائے۔ یہ خیال رالف ابو جودہ ڈیاز کی طرف سے سامنے آیا جو کہ اس شعبے کے ایک نامور عالمی سربراہ ہیں۔ اس تجزیے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آج کل جو مصنوعی ذہانت کے ارد گرد جو ماحول بنایا جا رہا ہے، اس کی جڑیں صرف مارکیٹنگ کی دنیا تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس میں خود انفارمیشن ٹیکنالوجی یا آئی ٹی انڈسٹری کا بھی ایک بڑا ہاتھ شامل ہے۔ جب بھی کوئی نئی اور بڑی تبدیلی رونما ہوتی ہے تو آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ادارے اور پروفیشنلز اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے لگتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سرمائے کو اپنی طرف راغب کیا جا سکے۔ اس عمل کے دوران اکثر ٹیکنالوجی کی اصل صلاحیتوں اور اس کی خامیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور صارفین کو ایسے خواب دکھائے جاتے ہیں جو حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام آدمی اور کاروباری ادارے اے آئی سے غیر معمولی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں، جو بعد میں پوری نہ ہونے پر مایوسی کا سبب بنتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ٹی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ ہائپ کلچر سے باہر نکل کر زمینی حقائق پر مبنی پروڈکٹس اور خدمات پیش کریں تاکہ مارکیٹ میں پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے اور صارفین کا اعتماد بحال رہے۔