Business
اسٹاک مارکیٹ میں مندی: ڈاؤ، ایس اینڈ پی اور نیسڈیک نیچے
عالمی منڈی میں ٹریژری ییلڈز اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کے باعث امریکی اسٹاک مارکیٹ کے بڑے اشاریے نیچے آ گئے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کے جذبات پر منفی اثر ڈالا اور دنیا بھر کی معاشی حرکیات پر جغرافیائی سیاسی صورتحال کے اثرات کو اجاگر کر دیا ہے۔
امریکہ کی بڑی حصص بازاروں میں نمایاں مندی ریکارڈ کی گئی ہے جہاں ڈاؤ جونز، ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک انڈیکس تیزی سے نیچے آ گئے ہیں۔ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ ٹریژری ییلڈز اور خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والا مسلسل اضافہ ہے، جس نے براہ راست ایکوئٹیز پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق مارکیٹ کے اس حالیہ رجحان نے ایک بار پھر اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کے جذبات کو کنٹرول کرنے میں جغرافیائی سیاسی استحکام کتنا اہم کردار ادا کرتا ہے۔
خام تیل کی قیمتیں بلند ہونے سے مہنگائی کے حوالے سے خدشات ایک بار پھر سر اٹھانے لگے ہیں، جبکہ ٹریژری ییلڈز میں اضافے کی وجہ سے سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال نے اسٹاک مارکیٹوں میں رسک اپٹائٹ کو کم کر دیا ہے اور ٹیکنالوجی سمیت تمام بڑے سیکٹرز کے شیئرز فروخت کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 جیسے اہم اشاریوں میں ہونے والی اس کمی سے وال اسٹریٹ پر بے یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک ٹریژری ییلڈز اور تیل کی قیمتوں میں استحکام نہیں آتا، اس وقت تک حصص بازاروں میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ سرمایہ کار اب مرکزی بینکوں کے آئندہ اقدامات اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی سیاسی و معاشی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اگلے رخ کا اندازہ لگایا جا سکے۔