LIVE
Loading Breaking News...

نیویارک سٹی میں ایمیزون اور میئر کے مابین ممکنہ محاذ آرائی

News Image
نیویارک سٹی میں ترسیلی کارکنوں کے حقوق اور قواعد و ضوابط پر ایک نیا بل متعارف کروایا گیا ہے۔ اس قانون سازی سے میئر اور عالمی ای کامرس کمپنی ایمیزون کے درمیان محاذ آرائی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
نیویارک سٹی میں پیر کے روز مقامی سیاست اور انتظامی امور کے حوالے سے اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے جہاں میونسپل کارپوریشن کے امور کے ساتھ ساتھ اب ایک نئے بل پر گرما گرم بحث شروع ہو چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق نیویارک سٹی میں ایم ٹی اے (MTA) کی جانب سے گرمیوں میں حب حبس اور شدید گرمی سے دوچار سب وے اسٹیشنوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے جدید ہیٹ کیپچر ٹیکنالوجی کے استعمال کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جو مسافروں کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے۔ تاہم، شہر کی سطح پر ایک اور بڑا سیاسی اور معاشی تنازع سر اٹھا رہا ہے جو کہ انتظامیہ اور دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی و ریٹیل کمپنی ایمیزون کے درمیان محاذ آرائی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ نئے بل کا بنیادی ہدف ترسیلی کارکنان (ڈلیوری ورکرز) کے کام کرنے کے حالات، تنخواہوں اور ان کے حقوق کا تحفظ ہے، جن کی خدمات کا دائرہ کار شہر بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ میئر کے قریبی حلقوں اور بل سازوں کا موقف ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آن لائن معیشت میں ان کارکنوں کا استحصال روکا جانا چاہیے اور انہیں بنیادی حفاظتی و قانونی حقوق فراہم کیے جانے چاہئیں۔ دوسری جانب، ایمیزون اور اس طرح کی دیگر بڑی کارپوریشنز کی جانب سے ان سخت قواعد و ضوابط پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جن کے بارے میں کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ اس سے کاروبار کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور ترسیل کا پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال نے نیویارک کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور تجارتی تنظیمیں بھی اس معاملے پر منقسم دکھائی دے رہی ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر یہ بل کونسل سے منظور ہو جاتا ہے تو میئر اور ایمیزون کے درمیان عدالتوں یا سیاسی پلیٹ فارمز پر ایک طویل قانونی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ مزدور یونینیں اس قانون سازی کی بھرپور حمایت کر رہی ہیں جبکہ کارپوریٹ سیکٹر اس کے ممکنہ منفی اثرات سے پریشان ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بل پر ہونے والی بحث اور ووٹنگ نیویارک کے معاشی مستقبل اور ورکرز رائٹس کی تحریک میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔