Technology
سیٹلائٹس کی روشنی انسانی آنکھوں کے لیے خطرناک، طبی ماہرین کی تشویش
وفاقی مواصلاتی کمیشن کی جانب سے منظور کردہ تجرباتی سیٹلائٹس سے زمین پر موجود لوگوں کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان جدید سیٹلائٹس کی روشنی انسانی آنکھوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
حال ہی میں وفاقی مواصلاتی کمیشن (FCC) نے ایک ایسے تجرباتی اور متنازع سیٹلائٹ کی منظوری دی ہے جو اپنی نوعیت کا ایک الگ اور طاقتور پروجیکٹ ہے۔ تاہم، اس منظوری کے بعد سائنسی اور طبی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان سیٹلائٹس سے خارج ہونے والی روشنی اور ان کی غیر معمولی چمک زمین پر موجود انسانوں کی آنکھوں کی بینائی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اگرچہ مواصلاتی نظام میں بہتری کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، لیکن اس کے مضر اثرات پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کے انسانی صحت پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ان سیٹلائٹس میں استعمال ہونے والے جدید آلات سے خارج ہونے والی شعاعیں براہ راست انسانی آنکھ کے ریٹینا کو متاثر کر سکتی ہیں۔ رات کے وقت جب یہ سیٹلائٹس زمین کے قریب سے گزرتے ہیں تو ان کی چمک کسی تیز روشنی یا لیزر کی طرح کام کر سکتی ہے جو انسانی آنکھ کے لیے ناقابل برداشت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ان سیٹلائٹس کی تعداد میں اضافہ کیا گیا تو زمین پر موجود آبادی کے لیے طویل مدتی بنیادوں پر بینائی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جن کا تدارک انتہائی مشکل ہوگا۔
اس صورتحال پر طبی ماہرین کا ایک گروپ مسلسل حکومتی اداروں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ اس پروجیکٹ کے حفاظتی پہلوؤں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ ان کا موقف ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں انسانی صحت کو نظر انداز کرنا کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے۔ اس منصوبے پر کام کرنے والی نجی کمپنی نے اگرچہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ تمام بین الاقوامی حفاظتی معیارات کا خیال رکھ رہے ہیں، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ تجرباتی مرحلے میں ہونے والی یہ تبدیلیاں مستقبل میں ایک بڑے انسانی بحران کا سبب بن سکتی ہیں۔
فی الحال، سائنسی برادری اور مواصلاتی ریگولیٹرز کے درمیان اس مسئلے پر بحث جاری ہے کہ آیا ان سیٹلائٹس کو کمرشل پیمانے پر چلانے کی اجازت دی جانی چاہیے یا نہیں۔ عوامی حلقوں میں بھی اس خبر کے بعد خوف و ہراس پایا جاتا ہے کہ کہیں آسمان سے آنے والی یہ مصنوعی روشنی ان کی بینائی کو مستقل طور پر متاثر نہ کر دے۔ آنے والے دنوں میں مزید تحقیقی ڈیٹا سامنے آنے کے بعد ہی اس بات کا حتمی تعین ہو سکے گا کہ یہ سیٹلائٹس انسانی آنکھ کے لیے کتنے خطرناک ثابت ہوتے ہیں اور کیا ان میں کوئی متبادل تبدیلی ممکن ہے۔