Technology
برنی سینڈرز کی بڑی ٹیک کمپنیوں سے مصنوعی ذہانت کی ترقی روکنے کی اپیل
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کو خط لکھ کر اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو عارضی طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کے معاشرتی اثرات اور خطرات کو سمجھنے کے لیے وقفہ درکار ہے۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں کام کرنے والی دنیا کی صف اول کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کو ایک اہم خط لکھا ہے جس میں انہوں نے ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتار ترقی کو عارضی طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ برنی سینڈرز نے یہ خط خاص طور پر اوپن اے آئی (OpenAI) کے سیم آلٹمین، اینتھروپک کے ڈاریو امودی اور میٹا کے مارک زکربرگ کے نام ارسال کیا ہے۔ سینڈرز کا ماننا ہے کہ جس تیزی کے ساتھ اے آئی ماڈلز کو تیار کیا جا رہا ہے، وہ انسانی معاشرے، معیشت اور ملازمتوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
اپنے خط میں برنی سینڈرز نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی موجودہ ترقی انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہی ہے، لیکن اس کے اثرات کو جانچنے کے لیے کوئی ٹھوس حکومتی یا بین الاقوامی فریم ورک موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کو منافع کی دوڑ میں اس قدر آگے نہیں نکلنا چاہیے کہ وہ انسانی اقدار اور اخلاقی حدود کو ہی بھول جائیں۔ سینیٹر نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تحقیق اور نئے ماڈلز کی ریلیز پر ایک توقف کریں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے فائدہ مند ہے یا یہ معاشرتی بگاڑ کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی کے ممکنہ خطرات جیسے کہ غلط معلومات کا پھیلاؤ، پرائیویسی کا خاتمہ اور بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے چھن جانے کے خدشات پر بحث جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں کسی بھی ریگولیٹری نگرانی کے بغیر ایسی ٹیکنالوجی متعارف کروا رہی ہیں جو مستقبل میں قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ سینیٹر برنی سینڈرز کا یہ اقدام ان لوگوں کے لیے ایک بڑی حمایت ہے جو اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال اور سست روی کے ساتھ اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے حامی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق برنی سینڈرز کا یہ خط سینیٹ کی سطح پر مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ایک بڑی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی کمپنیاں عام طور پر تجارتی مسابقت کی وجہ سے اپنی ترقی کی رفتار کو کم کرنے کے حق میں نہیں ہوتیں، تاہم سینیٹر کے اس مطالبے نے ان پر اخلاقی دباؤ ضرور بڑھا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا یہ کمپنیاں اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرتی ہیں یا پھر وہ حکومت کی طرف سے سخت قوانین کے نفاذ کا انتظار کرتی ہیں۔ فی الحال، برنی سینڈرز کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔