Politics
امریکی کانگریس کا مطالبہ: عمران خان کی قید اور صحت پر پاکستان سے بات کی جائے
امریکی کانگریس کے متعدد اراکین نے نامزد وزیر خارجہ مارکو روبیو پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں عمران خان کی قید اور ان کے بنیادی حقوق کا معاملہ اٹھائیں۔ دوسری جانب عمران خان کے صاحبزادوں نے اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی کانگریس کے اراکین کے ایک گروپ نے نامزد امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد پاکستان کے ساتھ بات چیت میں سابق وزیراعظم عمران خان کی طویل حراست اور ان کے بنیادی حقوق کی بحالی کا معاملہ سرفہرست رکھیں۔ کانگریس کے ارکان نے اپنے مراسلے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے کے باوجود ان کے حقوق کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں نے بھی بارہا پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عمران خان کے سیاسی اور انسانی حقوق کو یقینی بنائیں۔
اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت عمران خان کے صاحبزادوں کا حالیہ انٹرویو ہے، جس میں انہوں نے اپنے والد کی صحت کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جس طرح کی حالات میں عمران خان کو قید میں رکھا گیا ہے، اس سے نہ صرف ان کی ذہنی بلکہ جسمانی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ انٹرویو عالمی میڈیا پر نشر ہونے کے بعد ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی ملک بھر میں اپنے کارکنوں کے خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پارٹی قائد کی صحت کے حوالے سے آنے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں اور اس سے کارکنوں میں اضطراب پھیل رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکی انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ طور پر یہ معاملہ اٹھایا جاتا ہے تو پاکستان پر سفارتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عمران خان کی قید کا معاملہ اب محض پاکستان کا داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان کی جانب سے مارکو روبیو کو لکھا گیا یہ خط اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن میں اس صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت کے لیے اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ عدالتی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان خدشات کا شفاف جواب دے تاکہ عوامی بے چینی کو کم کیا جا سکے اور ملک میں سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہو۔