LIVE
Loading Breaking News...

افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی: یونیسکو کا تشویشناک انکشاف

News Image
یونیسکو کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغان طالبان نے 24 لاکھ سے زائد لڑکیوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کر دیا ہے۔ عالمی برادری اس اقدام کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دے کر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک تقریباً 24 لاکھ افغان لڑکیوں کو سکول جانے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار افغانستان میں انسانی حقوق اور خاص طور پر خواتین کی تعلیم کے حوالے سے پیدا ہونے والے سنگین بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔ یونیسکو کے مطابق، یہ پابندی نہ صرف لڑکیوں کے مستقبل کو تاریک کر رہی ہے بلکہ ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے عائد کردہ ان پابندیوں نے افغان معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور لاکھوں لڑکیاں اب گھروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس صورتحال پر دنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنان اور بین الاقوامی ادارے شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ والدین اور خاص طور پر باپ حضرات اپنے بچوں کی محرومیوں پر سخت اذیت میں مبتلا ہیں۔ متعدد بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بہت سی ایسی لڑکیاں اور ان کے اہلخانہ چھپ کر تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن طالبان کے سخت قوانین کی وجہ سے ایسا کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ افغانستان کے اندر موجود لڑکیوں کی تعلیمی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کا یہ رویہ عالمی برادری کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے منافی ہے جس میں انہوں نے خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مواقع دینے کا اشارہ دیا تھا۔ یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان لڑکیوں کے حقِ تعلیم کے لیے آواز اٹھائیں اور طالبان حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ عالمی عدالتِ انصاف (ICC) میں بھی افغان خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف آوازیں بلند ہو رہی ہیں، کیونکہ وہاں کی خواتین اب خود کو مکمل طور پر تنہا محسوس کر رہی ہیں۔ ماہرینِ تعلیم کا ماننا ہے کہ اگر ان پابندیوں کو جلد ختم نہ کیا گیا تو افغانستان کو ایک 'تعلیمی خلا' کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ فی الحال افغانستان دنیا کا واحد ملک بن چکا ہے جہاں لڑکیوں کو سیکنڈری تعلیم حاصل کرنے کی باقاعدہ ممانعت ہے، جو کہ عالمی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کے صریحاً منافی عمل ہے۔