LIVE
Loading Breaking News...

ٹک ٹاک پر اے آئی پرتشدد مواد اور بچوں کی حفاظت

News Image
ٹک ٹاک پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ پرتشدد ویڈیوز میں پھلوں اور سبزیوں کو خونی کارروائیوں میں دکھایا جا رہا ہے جو بچوں کی ذہنی صحت کے لیے خطرہ ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کا مواد کم عمر صارفین میں انتہا پسندی کے رجحانات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی مدد سے تیار کردہ ایسی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں جن میں پھلوں اور سبزیوں کو انتہائی پرتشدد اور خونی کارروائیوں میں ملوث دکھایا جا رہا ہے۔ ماہرین نے ان ویڈیوز کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ یہ مواد کم عمر بچوں میں انتہا پسندی کے رجحانات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے مواد میں اکثر ایسے مناظر ہوتے ہیں جو بظاہر مزاحیہ لگ سکتے ہیں لیکن ان کی بنیادی ساخت اور پیغام بچوں کے غیر پختہ ذہنوں پر گہرے اور منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ تحقیقاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پرتشدد کلپس ایک منظم ایجنڈے کے تحت پھیلائے جا رہے ہیں جس کا مقصد نوجوان نسل کو شدت پسندی کی جانب راغب کرنا ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے تخلیق کاروں نے پھلوں اور سبزیوں کو انسانی اعضاء اور ہتھیاروں کے ساتھ دکھایا ہے، جو کہ بچوں کے لیے ذہنی دباؤ اور صدمے کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا ماننا ہے کہ اس قسم کے پرتشدد مواد کا مسلسل مشاہدہ بچوں میں ہمدردی کے جذبات کو کم کر سکتا ہے اور انہیں غیر معمولی رویوں کی جانب مائل کر سکتا ہے، جسے نظر انداز کرنا مستقبل میں بڑے معاشرتی بگاڑ کا سبب بنے گا۔ ٹک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے اس مواد کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات تاحال ناکافی دکھائی دے رہے ہیں۔ اگرچہ پلیٹ فارم پر 'کمیونٹی گائیڈ لائنز' موجود ہیں، لیکن اے آئی سے تیار کردہ اس مخصوص مواد کو شناخت کرنا اور اسے ہٹانا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ماہرین نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کریں اور انہیں انٹرنیٹ پر دکھائے جانے والے ہر طرح کے مواد کے بارے میں شعور فراہم کریں۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر ڈیجیٹل دنیا میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور مصنوعی ذہانت کے استعمال پر اخلاقی ضابطہ اخلاق کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری کافی نہیں ہے، بلکہ حکومتوں اور سول سوسائٹی کو بھی مل کر ایسے قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے جو بچوں کو اس قسم کے 'ڈیجیٹل زہر' سے محفوظ رکھ سکیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھلے ماحول میں بات کریں تاکہ انہیں اس بات کا ادراک ہو سکے کہ انٹرنیٹ پر موجود ہر چیز تفریح نہیں بلکہ خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔