LIVE
Loading Breaking News...

میڈیکل معجزہ: والنٹ کریک ہسپتال کی سب سے چھوٹی بچی کی گھر واپسی

News Image
والنٹ کریک ہسپتال میں پیدا ہونے والی تاریخ کی سب سے چھوٹی زندہ بچی میڈو کو طویل طبی علاج کے بعد صحت یابی کے ساتھ گھر بھیج دیا گیا ہے۔ ایک پاؤنڈ سے کم وزنی اس بچی کی زندگی بچانے کے لیے ہسپتال کے عملے نے انتھک کوششیں کیں۔
امریکہ کے شہر والنٹ کریک کے ایک ہسپتال میں ایک غیر معمولی طبی معجزہ رونما ہوا ہے، جہاں ایک انتہائی کم وزنی بچی، جسے میڈو کا نام دیا گیا ہے، اپنی زندگی کی مشکل ترین جنگ جیت کر بالآخر اپنے گھر پہنچ گئی ہے۔ اس بچی کے والدین اور ہسپتال کے عملے کے لیے یہ ایک جذباتی دن تھا کیونکہ میڈو ہسپتال کی تاریخ کی سب سے چھوٹی زندہ بچی ہے جو مکمل صحت یابی کے ساتھ گھر روانہ ہوئی ہے۔ پیدائش کے وقت اس بچی کا وزن ایک پاؤنڈ سے بھی کم تھا، جو کہ طب کی دنیا میں ایک انتہائی نازک صورتحال تصور کی جاتی ہے۔ میڈو کی پیدائش قبل از وقت ہوئی تھی جس کے باعث اسے کئی ماہ تک ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ (NICU) میں ڈاکٹروں کی سخت نگرانی میں رکھا گیا۔ اس عرصے کے دوران بچی کو سانس لینے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا اور اس کے اعضاء کو نشوونما کے لیے جدید ترین طبی آلات پر انحصار کرنا پڑا۔ ہسپتال کے ماہر ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف نے اس بچی کی جان بچانے کے لیے دن رات ایک کر دیے، اور بالآخر میڈو نے طبی ماہرین کی توقعات سے بڑھ کر بہتری دکھائی اور آہستہ آہستہ صحت کی جانب قدم بڑھائے۔ اس کامیابی کو ہسپتال کی انتظامیہ نے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ ہسپتال کے ماہر امراض اطفال کا کہنا ہے کہ میڈو کا کیس نہ صرف والدین کے لیے بلکہ طبی عملے کے لیے بھی ایک سبق آموز تجربہ رہا ہے۔ اس قسم کے کیسز میں زندہ بچ جانے کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں، لیکن میڈو کی ہمت اور جدید طبی سہولیات نے اسے ممکن بنا دیا۔ ڈاکٹروں نے اس بات پر زور دیا کہ بچی کی مکمل صحت یابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر بروقت طبی مداخلت اور بہترین نگہداشت میسر ہو تو مشکل ترین حالات پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ اب جبکہ میڈو اپنے گھر پہنچ چکی ہے، اس کے والدین نے ہسپتال کے تمام عملے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے ان کی بچی کو نئی زندگی دینے میں اپنا کردار ادا کیا۔ گھر واپسی پر خاندان کے افراد کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور انہوں نے اس سفر کو ایک معجزہ قرار دیا ہے۔ میڈو کی یہ کہانی دنیا بھر کے ان والدین کے لیے امید کی ایک کرن ہے جو اس طرح کی طبی مشکلات کا شکار اپنے بچوں کی زندگی کے لیے لڑ رہے ہیں۔