Business
مائی سائز انک نے حصص کے ریورس اسٹاک اسپلٹ کا اعلان کر دیا
مائی سائز نے اپنے حصص کی قیمت کو بہتر بنانے اور نیسڈیک کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ریورس اسٹاک اسپلٹ کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام کمپنی کی طویل مدتی کاروباری حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ای کامرس اور اے آئی ٹیکنالوجی میں ترقی کو برقرار رکھنا ہے۔
اسرائیل کے شہر ایئرپورٹ سٹی میں قائم فیشن ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی 'مائی سائز' (MySize, Inc) نے اپنے حصص کی قدر میں بہتری اور مارکیٹ کے قواعد و ضوابط کی پاسداری کے لیے ریورس اسٹاک اسپلٹ (Reverse Stock Split) کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ نیسڈیک (NASDAQ) پر ٹریڈ کرنے والی اس کمپنی نے اپنے حالیہ بیان میں اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ انتظامیہ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے طویل مدتی مالی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ مائی سائز جو کہ اے آئی پر مبنی سائزنگ سلوشنز، اومنی چینل ای کامرس، ری سیل پلیٹ فارمز اور ملبوسات کی تقسیم جیسے شعبوں میں کام کرتی ہے، اپنے مالیاتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ریورس اسٹاک اسپلٹ کے ذریعے حصص کی تعداد میں کمی کی جائے گی تاکہ مارکیٹ میں فی شیئر قیمت میں اضافہ ہو سکے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ قدم نیسڈیک کے کم از کم قیمت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ایک ضروری حکمت عملی ہے۔ مائی سائز نے اپنے شیئر ہولڈرز کو اس عمل سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس تبدیلی سے کمپنی کے بنیادی کاروباری ماڈل اور روزمرہ کے آپریشنز پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ کمپنی کے بانی اور ایگزیکٹو ٹیم اپنے اے آئی ٹیکنالوجی پر مبنی پروجیکٹس پر مسلسل کام کر رہی ہے تاکہ آن لائن شاپنگ کے تجربے کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے مائی سائز کی جانب سے اپنے پلیٹ فارمز کو توسیع دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں ملبوسات کی ری سیل مارکیٹ میں حصہ داری بھی شامل ہے۔ سرمایہ کاری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریورس اسٹاک اسپلٹ اکثر ایسی کمپنیاں کرتی ہیں جو اپنے اسٹاک کی قیمت کو ایک مخصوص سطح سے اوپر رکھنا چاہتی ہیں تاکہ وہ اسٹاک ایکسچینج کی لسٹنگ برقرار رکھ سکیں۔ مائی سائز کے لیے اب یہ اہم مرحلہ ہے کہ وہ کس طرح مارکیٹ میں اپنے اسٹاک کی قدر کو برقرار رکھتی ہے اور اپنی ٹیکنالوجیکل جدت طرازیوں کے ذریعے ریونیو میں اضافہ کرتی ہے۔ کمپنی کے موجودہ شیئر ہولڈرز اور سرمایہ کار اس فیصلے کو احتیاط سے دیکھ رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ مستقبل کے منصوبوں کے لیے مالیاتی استحکام ناگزیر تھا۔