LIVE
Loading Breaking News...

خودکار کوڈیاک ٹرک: ڈرائیور کے بغیر ٹرک ٹیکنالوجی کا نیا سنگ میل

News Image
اٹلس انرجی سلوشنز نے ٹیکساس اور نیو میکسیکو میں بغیر ڈرائیور چلنے والے کوڈیاک ٹرکوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ٹرک فی الحال تیل اور گیس کی تنصیبات تک ریت پہنچانے کے لیے مکمل خودکار طریقے سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
خودکار ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر، کوڈیاک روبوٹکس اور اٹلس انرجی سلوشنز نے مشترکہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی بغیر ڈرائیور ٹرکوں کی فلیٹ کو وسیع کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت 100 خودکار کوڈیاک ٹرکوں کو ٹیکساس اور نیو میکسیکو کی عوامی سڑکوں پر چلایا جائے گا۔ یہ ٹرک نہ صرف جدید ترین سینسرز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس ہیں بلکہ یہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انسانی غلطیوں کے امکانات کو کم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم بھی ہیں۔ اب تک یہ ٹرک محدود پیمانے پر تیل اور گیس کی تنصیبات تک ریت پہنچانے کا کام انجام دے رہے ہیں اور اس دوران ان کے کیبن میں کوئی ڈرائیور موجود نہیں ہوتا۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ ٹرک اب تک ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ کامیابی کے ساتھ طے کر چکے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خودکار نظام مشکل راستوں اور مصروف شاہراہوں پر بھی محفوظ طریقے سے گاڑی چلانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ کوڈیاک کا دعویٰ ہے کہ ان کی ٹیکنالوجی روایتی ڈرائیونگ کے مقابلے میں زیادہ محتاط اور مستعد ہے۔ اس منصوبے کو توسیع دینے کا بنیادی مقصد لاجسٹکس کے شعبے میں کارکردگی کو بڑھانا اور ایندھن کی بچت کرنا ہے۔ اٹلس انرجی کا ماننا ہے کہ بغیر ڈرائیور ٹرکوں کے استعمال سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی آئے گی اور سپلائی چین کے عمل کو مزید تیز کیا جا سکے گا۔ اگرچہ سڑکوں پر بغیر ڈرائیور ٹرکوں کی موجودگی پر کئی حلقوں کی جانب سے حفاظتی خدشات کا اظہار بھی کیا گیا ہے، لیکن کمپنیاں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ ان کی ٹیکنالوجی کو سخت حفاظتی جانچ کے مراحل سے گزارا گیا ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ ٹیکنالوجی صرف تیل اور گیس کی صنعت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اسے تجارتی مال کی ترسیل کے دیگر شعبوں میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 100 ٹرک ایک شروعات ہیں، اور جیسے جیسے خودکار نظام مزید بہتر ہوگا، مستقبل میں سڑکوں پر بغیر ڈرائیور گاڑیوں کا عام ہونا ایک معمول بن جائے گا۔ یہ پیش رفت جہاں ٹیکنالوجی کے شائقین کے لیے خوش آئند ہے، وہیں یہ ٹرانسپورٹ کے روایتی طریقوں میں ایک انقلابی تبدیلی کی نوید بھی ہے۔