LIVE
Loading Breaking News...

چیونٹیوں کے سماجی نظام اور اجتماعی رویے پر نئی سائنسی تحقیق

News Image
سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ چیونٹیوں کی کالونیاں ایک مربوط جسمانی نظام کی طرح کام کرتی ہیں۔ یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کس طرح چیونٹیاں اجتماعی طور پر کسی خاص عمل کا فیصلہ کرتی ہیں۔
چیونٹیوں کی ایک کالونی بظاہر چھوٹی چھوٹی مخلوقات کا ایک بے ہنگم مجموعہ دکھائی دیتی ہے جو اپنی مرضی کے مطابق ادھر ادھر گھوم رہی ہوتی ہیں۔ تاہم، سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ بے ہنگم حرکت درحقیقت ایک انتہائی منظم اور مربوط نظام کا حصہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چیونٹیاں ایک 'طبیعی نظام' کی طرح ردعمل ظاہر کرتی ہیں، جہاں پوری کالونی ایک ہی وقت میں متحرک ہو کر کسی خاص مقصد کے لیے کام شروع کر دیتی ہے۔ یہ حیران کن عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چیونٹیوں کے درمیان مواصلات کا ایک ایسا خفیہ نظام موجود ہے جسے اب تک مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا تھا۔ محققین کے مطابق، چیونٹیوں کی کالونی میں کسی اچانک تبدیلی یا خطرے کے وقت سب ایک ساتھ حرکت میں آتے ہیں، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورا گروپ کسی ایک مرکزی ذہن کے تحت کام کر رہا ہو۔ یہ رویہ طبیعاتی نظاموں میں 'پلس' یا لہر کی طرح ہوتا ہے جو پوری کالونی میں تیزی سے پھیل جاتا ہے۔ سائنس دان اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کون سے محرکات ہیں جو اس اجتماعی عمل کو جنم دیتے ہیں۔ کیا یہ کیمیائی سگنلز ہیں یا پھر کوئی اور پیچیدہ حس جو انہیں ایک ہی وقت میں عمل کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟ اس پہیلی کو حل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج صرف چیونٹیوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ دیگر پیچیدہ نظاموں کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چیونٹیوں کے اس اجتماعی رویے کا مطالعہ ہمیں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور نیٹ ورک سسٹمز کو بہتر بنانے میں نئی جہتیں فراہم کر سکتا ہے۔ جس طرح ایک چھوٹی سی چیونٹی اپنی کالونی کے بڑے مقصد کے لیے کام کرتی ہے، اسی طرح انسان بھی مستقبل میں خودکار نظاموں کو زیادہ بہتر اور مربوط انداز میں ڈیزائن کر سکیں گے۔ یہ تحقیق فطرت کے ان خفیہ اصولوں کو سمجھنے کی ایک اہم کڑی ہے جو لاکھوں سالوں سے ان ننھی مخلوقات کی کامیابی کا راز بنے ہوئے ہیں۔