Technology
آئی فون صارفین کی خواہشات اور ایپل کی پالیسیاں
آئی فون صارفین طویل عرصے سے ایپل کے اسمارٹ فون میں بیٹری لائف اور سافٹ ویئر کے حوالے سے متعدد تبدیلیاں لانے کے خواہشمند ہیں۔ تاہم کمپنی کی موجودہ پالیسیوں اور کاروباری حکمت عملیوں کے پیش نظر ان مطالبات کا جلد پورا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
ٹم کک کی بطور سی ای او ایپل میں 15 سالہ شاندار مدت کے دوران کمپنی نے ایئر پوڈز اور ویژن پرو جیسی انقلابی مصنوعات متعارف کروائی ہیں، لیکن آئی فون کے صارفین کی جانب سے مسلسل کچھ ایسے مطالبات کیے جا رہے ہیں جن پر کمپنی نے تاحال مکمل عملدرآمد نہیں کیا۔ حال ہی میں ایک سروے کے مطابق صارفین آئی فون کی بیٹری لائف میں بہتری، سافٹ ویئر میں مزید آزادی اور چارجنگ پورٹ کے علاوہ دیگر ہارڈ ویئر تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ صارفین کا یہ ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں ایپل کو اپنے ماحول کو مزید کھلا رکھنا چاہیے تاکہ لوگ اپنی مرضی سے ایپس انسٹال کر سکیں اور ہارڈ ویئر کے ساتھ تجربات کر سکیں۔
دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ ایپل کا کاروباری ماڈل 'والڈ گارڈن' یعنی ایک بند حصار پر مبنی ہے، جہاں سیکیورٹی اور پرائیویسی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی صارفین کے ان مطالبات کو پورا کرنے سے گریزاں ہے۔ جب ایپل کے مستقبل کی قیادت کی بات کی جائے تو جان ٹرنس کے حوالے سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ وہ کمپنی کی موجودہ پالیسیوں کو ہی آگے بڑھائیں گے۔ ایپل کی حکمت عملی صرف ہارڈ ویئر فروخت کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا مربوط نظام بنانا ہے جس میں سافٹ ویئر، ہارڈ ویئر اور سروسز ایک دوسرے سے جڑے رہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایپل اپنے صارفین کی ہر بات مان لے تو اس سے اس کی برانڈ کی شناخت اور سیکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ آئی فون کی کامیابی کا ایک بڑا راز اس کا سادہ اور محفوظ تجربہ ہے، جسے کمپنی کسی بھی صورت تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جہاں تک بیٹری لائف یا جدید ٹیکنالوجی کی بات ہے تو ایپل اپنی رفتار سے کام کرتا ہے، اور جلد بازی میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتا جس سے اس کے معیار پر حرف آئے۔ اس لیے صارفین کی خواہشات اپنی جگہ، مگر ایپل اپنی طویل مدتی حکمت عملی پر ہی قائم رہے گا کیونکہ یہی اس کی مالی کامیابی کی بنیادی وجہ ہے۔
مستقبل قریب میں یہ توقع رکھنا کہ آئی فون میں کوئی بہت بڑی یا بنیادی تبدیلی آئے گی، ایک مشکل امر ہے۔ ایپل کی اگلی نسل کی قیادت بھی اسی ڈگر پر چلنے کا ارادہ رکھتی ہے جو ٹم کک نے متعین کی ہے۔ لہٰذا، صارفین کو ان تبدیلیوں کے لیے شاید مزید کئی برس انتظار کرنا پڑے یا پھر ایپل کے موجودہ ماحول کے ساتھ مطابقت پیدا کرنی ہوگی۔ ایپل کی یہ کاروباری سوچ اسے دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں ممتاز رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے وفادار صارفین آج بھی کسی متبادل کے بغیر اسی پر انحصار کر رہے ہیں۔