World
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورہ تہران اور اہم مذاکرات
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے جس میں خطے کی صورتحال اور امن و استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دورے کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور دونوں برادر ممالک کے درمیان سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہے۔
اسلام آباد اور تہران کے درمیان سفارتی رابطوں میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی، جو کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور اہم علاقائی امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی، جس میں آبنائے ہرمز کی بحالی کے معاملات سرفہرست رہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، پاکستانی وزیر داخلہ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سٹریٹجک نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں اور بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان اور ایران کے مابین اس اعلیٰ سطحی رابطے کو خطے میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک خطے میں کسی بھی قسم کے تناؤ کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے اور باہمی تعاون کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سفارتی مشن کے دوران پاکستانی وزیر داخلہ نے اہم پیغامات بھی پہنچائے ہیں جن کا مقصد فریقین کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنا اور خطے میں تجارت بالخصوص آبنائے ہرمز کے راستوں کو بحال رکھنا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس کی بحالی کے حوالے سے جاری مذاکرات میں پاکستان کا یہ کردار خطے میں ثالثی اور خیر سگالی کی ایک اہم مثال ہے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور پر تعاون جاری رکھنے اور اعلیٰ سطح کے رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات خطے کی مجموعی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، اور اس قسم کے دورے دونوں پڑوسی ممالک کے مابین اعتماد سازی کے فروغ میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان مذاکرات کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے اور خطے میں پائیدار امن کی راہیں ہموار ہوں گی۔