World
ایران میں نئی عسکری قیادت اور پاسدارانِ انقلاب کی حمایت کا اعلان
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے ملک کی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں پاسدارانِ انقلاب کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ یہ پیشرفت ایران میں سیکیورٹی اور عسکری قیادت میں حالیہ تبدیلیوں کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے ایک اہم بیان میں ملک کی طاقتور تنظیم 'پاسدارانِ انقلاب' (IRGC) کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ریاستی میڈیا کے مطابق، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اپنی قومی سیکیورٹی اور عسکری حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں لا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے اور امریکہ کے ساتھ ممکنہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے ملک کے اندرونی دفاعی اتحاد کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو مزید بااختیار بنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران اپنی بیرونی پالیسیوں میں زیادہ سخت گیر موقف اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ حال ہی میں ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت میں کی گئی ردوبدل اور سابق فوجی افسران کو کلیدی عہدوں پر فائز کرنا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایرانی حکومت اپنی قومی سلامتی کے ڈھانچے کو نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار کر رہی ہے۔ بالخصوص محسن رضائی جیسے سخت گیر رہنماؤں کی کلیدی سیکیورٹی کرداروں پر تعیناتی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مستقبل قریب میں ایران کی خارجہ پالیسی خاص طور پر مغربی ممالک کے ساتھ معاملات میں زیادہ جارحانہ ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، سپریم لیڈر کی جانب سے ان عسکری ماہرین کو ترجیح دینا جو امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی کے لیے پرعزم ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اپنی عسکری اور دفاعی پوزیشن سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ تمام تر تبدیلیاں نہ صرف علاقائی سیاست پر اثر انداز ہوں گی بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی تہران کی نئی حکمت عملی کو سمجھنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان یہ یکجہتی ملک کو اندرونی اور بیرونی دباؤ کے خلاف ایک مضبوط دفاعی حصار فراہم کرے گی۔