World
ایران اور امریکہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش اور مذاکرات سے انکار
ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا امکان یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ اور امن کا فیصلہ امریکہ کو نہیں کرنے دے گا۔ اس دوران اہم بین الاقوامی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور علاقائی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
تہران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا امکان یکسر مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں واشنگٹن کے ساتھ کسی فہم یا سمجھوتہ تک پہنچنا ناممکن ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق تہران اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور امریکہ کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ خطے میں جنگ یا امن کے فیصلے خود طے کرے۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تیرہ روزہ بمباری مہم کے اختتام کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے، جو دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے آبنائے ہرمز کو ایران کی طاقت کا محور اور نقطہ کمال قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کی مسلح افواج ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ اس اہم بحری گزرگاہ کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کے بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر تجارت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ بلومبرگ کی رپورٹس کے مطابق مختلف ممالک کے ثالث اس تنازع کو حل کرنے اور فریقین کے درمیان تصادم کو روکنے کے لیے سرگرم عمل ہو گئے ہیں۔ تاہم ایرانی قیادت کے سخت موقف سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فی الحال فوری حل کے امکانات معدوم ہیں۔ دریں اثنا، تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے حق سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور خطے میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کا سختی سے مقابلہ کیا جائے گا۔