LIVE
Loading Breaking News...

یمنی ماہی گیروں کو بحیرہ احمر میں شدید خطرات کا سامنا

News Image
یمن میں جاری کشیدگی اور بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے باعث ماہی گیری کا شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ جان بچانے کی خاطر بڑی تعداد میں مقامی ماہی گیروں نے اپنے آبائی پیشے کو خیرباد کہہ دیا ہے۔
یمن کے ساحلی علاقوں میں بسنے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے بحیرہ احمر زندگی گزارنے کا واحد ذریعہ رہا ہے، لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے یہ سمندر ماہی گیروں کے لیے موت کا کنواں بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عسکری سرگرمیوں نے یہاں کے عام شہریوں اور خاص طور پر ماہی گیروں کی زندگی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ آئے دن ہونے والے حملوں اور سمندری حدود میں جنگی جہازوں کی موجودگی نے مچھلی پکڑنے کے روایتی کاروبار کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ کئی دہائیوں سے اس پیشے سے وابستہ یمنی ماہی گیر اب اپنے آبائی کام کو چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سمندر میں قدم رکھتے ہی ہر لمحہ موت کا خوف ان کے سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ مچھلی پکڑنے والی چھوٹی کشتیاں کسی بھی وقت غلط فہمی کا شکار ہو کر حملے کی زد میں آ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد ماہی گیر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں یا پھر لاپتہ ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے ساحلی آبادیوں میں شدید معاشی بحران پیدا کر دیا ہے کیونکہ ان کی آمدنی کا دارومدار مکمل طور پر مچھلی کے شکار پر تھا۔ علاقائی ماہرین کے مطابق یمن کے ساحلی شہروں میں غربت اور بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ سمندری راستوں کا غیر محفوظ ہونا ہے۔ حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ساحلی برادریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے ماہی گیر اب متبادل روزگار کی تلاش میں بڑے شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ یہ ہجرت نہ صرف ان کے طرزِ زندگی کو تبدیل کر رہی ہے بلکہ یمن کی صدیوں پرانی سمندری ثقافت اور روایات کو بھی مٹانے کا سبب بن رہی ہے۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب بہت کم لوگ سمندر کا رخ کرنے کی ہمت کرتے ہیں۔ بحیرہ احمر میں جاری کشیدگی کب تک ختم ہوگی، اس بارے میں کوئی بھی یقینی بات نہیں کہی جا سکتی۔ جب تک عالمی طاقتیں اس آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کرتیں، تب تک یمنی ماہی گیروں کے لیے زندگی کی جنگ جاری رہے گی اور سمندر کے یہ رکھوالے اپنی روزی روٹی سے محروم رہیں گے۔