LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی کارروائی: شہید فلسطینی فاروق رمضان کا گھر مسمار

News Image
اسرائیلی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران فلسطینی شہری فاروق رمضان کے گھر کو دھماکہ خیز مواد سے مسمار کر دیا ہے۔ فاروق رمضان کو رواں سال جولائی میں ایک آباد کار کے حملے کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی فورسز نے ایک اور سخت گیر کارروائی کرتے ہوئے فلسطینی نوجوان فاروق رمضان کے آبائی گھر کو مسمار کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی آبادی نے اسے اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ یاد رہے کہ فاروق رمضان کو رواں سال جولائی میں ایک یہودی آباد کار کے حملے کے نتیجے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ گھر ان کی سیکیورٹی پالیسیوں کے تحت گرایا گیا ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس عمل کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ واقعے کی منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فوجی گھر کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کی تیاری کر رہے ہیں اور پھر ایک زوردار دھماکے کے ساتھ عمارت ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہے۔ یہ گھر فاروق رمضان کے خاندان کی رہائش گاہ تھا، جسے اب پوری طرح تباہ کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پورا خاندان بے گھر ہو چکا ہے۔ مقامی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے کارروائی سے قبل علاقے کا محاصرہ کیا اور کسی کو بھی قریب آنے کی اجازت نہیں دی، جس سے مکینوں کو اپنا سامان نکالنے کا موقع تک نہیں ملا۔ فلسطینی حلقوں نے اس مسماری کو انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے اکثر اس طرح کے اقدامات پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، جس کے باعث قابض فورسز کے حوصلے بلند ہیں۔ فاروق رمضان کی ہلاکت پہلے ہی علاقے میں غم و غصے کی لہر پیدا کر چکی تھی اور اب ان کے گھر کو مسمار کرنے کے بعد مقامی سطح پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے مطالبہ کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی عدالتیں اس معاملے کا نوٹس لیں اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ یہ واقعہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک حصہ ہے جہاں گزشتہ کچھ ماہ کے دوران آباد کاروں کے حملوں اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نہتے فلسطینیوں کی املاک کو نشانہ بنانا اور انہیں گھروں سے بے دخل کرنا اسرائیلی ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے جس کے دور رس اثرات خطے کے امن پر پڑ رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، اس قسم کے اقدامات سے خطے میں مزید تشدد کو ہوا ملے گی اور دو ریاستی حل کی امیدیں مزید دھندلا جائیں گی۔