Politics
امریکی سیاست: ڈونلڈ ٹرمپ کا ڈیموکریٹس کو جہادی قرار دینے کا متنازعہ بیان
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں جہادی قرار دے دیا ہے۔ یہ بیان وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں دیے گئے ایک بیان میں سامنے آیا جس پر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی سیاسی مخالف جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے خلاف شدید جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے انہیں 'جہادی' قرار دے دیا ہے۔ اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کے بارے میں انتہائی تند و تیز الفاظ استعمال کیے اور دعویٰ کیا کہ اگر ڈیموکریٹس اقتدار میں آئے تو واشنگٹن پر جہادیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ ان کے اس بیان نے امریکی سیاسی منظر نامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں پہلے ہی صدارتی انتخابات کی گہما گہمی عروج پر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان ان کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد اپنے ووٹرز کو متحرک کرنا اور حریف جماعت کو بدنام کرنا ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ٹرمپ کے اس بیان کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ سابق صدر کے اس طرح کے بیانات نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ معاشرے میں تقسیم اور نفرت کو ہوا دینے کے مترادف ہیں۔ ڈیموکریٹس کا یہ ماننا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے انتخابی مہم میں 'جہادی' جیسے الفاظ کا استعمال سیاسی معیار کو گرا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی عوام کے حقوق اور جمہوری اقدار کی پاسداری کرتی ہے اور ٹرمپ کے الزامات کا کوئی حقیقت پسندانہ جواز نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ الفاظ دراصل ووٹروں کو پولرائز کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ کسی خاص بیانیے کو تقویت دی جا سکے۔
امریکی میڈیا میں اس بیان پر کافی تنقید کی جا رہی ہے اور سیاسی مبصرین اسے ٹرمپ کی سیاسی مہم کی انتہا پسندی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ جیسے جیسے انتخابات کا وقت قریب آ رہا ہے، سیاسی بیان بازی مزید سخت ہوتی جائے گی۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اسے ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی زبان استعمال کرنے سے قومی سلامتی اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ہی ووٹرز کے درمیان بھی اس بیان کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور امریکی عوام اس متنازعہ بیان پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ مہم ان کے حق میں جاتی ہے یا انہیں مزید تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔