LIVE
Loading Breaking News...

ناردرن ٹیریٹری یونیورسٹی پر سخت حکومتی نگرانی کا فیصلہ

News Image
آسٹریلیا کی ناردرن ٹیریٹری یونیورسٹی کو اب حکومتی فنڈز کے حصول کے لیے کارکردگی کے سخت اہداف پورے کرنا ہوں گے۔ یہ فیصلہ یونیورسٹی کی جانب سے غیر ملکی کیمپس کی ناکامی اور مالی بے قاعدگیوں کے بعد کیا گیا ہے۔
آسٹریلیا کی ناردرن ٹیریٹری کی واحد یونیورسٹی اب ایک نئے اور سخت انتظامی دور میں داخل ہونے جا رہی ہے، جہاں اسے سرکاری فنڈز کے حصول کے لیے کارکردگی کے مقرر کردہ اہداف یعنی کے پی آئیز (KPIs) کو پورا کرنا لازمی ہوگا۔ یہ فیصلہ حکام کی جانب سے یونیورسٹی کے مالی معاملات اور انتظامی امور میں سامنے آنے والی خامیوں کے بعد کیا گیا ہے۔ حالیہ عرصے کے دوران یونیورسٹی کو مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا رہا، جن میں خاص طور پر بیرون ملک قائم کردہ کیمپس کی ناکامی اور انتظامی معاملات میں شفافیت کا فقدان سر فہرست ہے، جس نے حکومت کو اس سخت قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ نئے ضوابط کے تحت، یونیورسٹی انتظامیہ کو اب اپنی تمام تر سرگرمیوں اور اخراجات کا سخت حساب دینا ہوگا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عوامی ٹیکس کا پیسہ درست سمت میں استعمال ہو رہا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ تعلیمی اداروں میں مالی نظم و ضبط کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، خاص طور پر جب ادارہ عوامی وسائل پر انحصار کر رہا ہو۔ یونیورسٹی کے حکام نے اس نئے اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے تاکہ طلباء کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ اس پیش رفت کے بعد تعلیمی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ آیا یہ سخت شرائط یونیورسٹی کی خود مختاری پر اثر انداز ہوں گی یا نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مالی احتساب ضروری ہے، تاہم یونیورسٹیوں کو اپنی تعلیمی تحقیق اور تدریسی آزادی کے لیے آزاد ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری جانب، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات یونیورسٹی کی ساکھ کو بحال کرنے اور اسے مستقبل میں مزید مالی بحرانوں سے بچانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کس حد تک یونیورسٹی ان نئے تقاضوں پر پورا اترتی ہے اور اس کا اثر طلباء کی تعلیم پر کیا مرتب ہوتا ہے۔