LIVE
Loading Breaking News...

Gen Z کی عادات: ڈیجیٹل دنیا سے باہر نوجوانوں کا سماجی رویہ

News Image
کینیڈا کی حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ Gen Z صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں بلکہ وہ جسمانی طور پر عوامی مقامات پر وقت گزارنے کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ نسل سماجی روابط کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ حقیقی دنیا کے تجربات پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔
عام طور پر جب اربن پلانرز اور محققین سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ نئی نسل یعنی Gen Z اپنا زیادہ تر وقت کہاں گزارتی ہے تو ان کا جواب فوراً ٹک ٹاک، انسٹاگرام یا یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہوتا ہے۔ تاہم، کینیڈا میں ہونے والی ایک نئی اور تفصیلی تحقیق نے اس تاثر کو کافی حد تک تبدیل کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ آج کے نوجوانوں کی زندگی کا ایک بڑا حصہ ڈیجیٹل اسکرینز کے گرد گھومتا ہے، لیکن تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ درحقیقت، یہ نسل اپنی سماجی ضروریات اور تفریح کے لیے حقیقی دنیا میں بھی اتنی ہی متحرک ہے جتنی کہ وہ آن لائن نظر آتی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق، Gen Z کے نوجوان جب گھروں سے باہر نکلتے ہیں تو وہ ایسے مقامات تلاش کرتے ہیں جہاں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل بیٹھ سکیں اور سماجی رابطے قائم کر سکیں۔ عوامی مقامات، پارک، کیفے اور کمیونٹی سینٹرز ان نوجوانوں کے لیے ایک اہم مرکز بن چکے ہیں۔ ٹیکنالوجی نے جہاں ان نوجوانوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھا ہے، وہیں یہ ٹیکنالوجی انہیں حقیقی دنیا کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے ایک سہولت کار کے طور پر بھی مدد فراہم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، وہ کسی بھی تفریحی مقام کا تعین کرنے کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہیں، لیکن ان کا مقصد آخرکار جسمانی موجودگی اور سماجی میل جول ہی ہوتا ہے۔ شہری منصوبہ بندی کرنے والے ماہرین کے لیے یہ نتائج کافی اہم ہیں کیونکہ اب انہیں شہروں کے انفراسٹرکچر میں نوجوانوں کی ان ضروریات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ صرف ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ ایسی جگہیں بنانا ضروری ہے جہاں نوجوان کسی رکاوٹ کے بغیر اکٹھے ہو سکیں، بحث کر سکیں اور اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔ یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ Gen Z تنہائی پسند نہیں ہے، بلکہ وہ سماجی طور پر بہت زیادہ جڑی ہوئی نسل ہے، جو اپنی ڈیجیٹل مہارتوں اور حقیقی دنیا کے تجربات کے درمیان ایک بہترین توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ بدلتا ہوا رجحان مستقبل کے شہری منصوبہ سازوں کے لیے ایک نیا چیلنج اور ایک نیا موقع بھی پیش کر رہا ہے۔