LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی ٹیکنالوجی اور مستقبل: کیا عام صارفین کے لیے کچھ بچے گا؟

News Image
میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ کا دعویٰ ہے کہ اے آئی کا مستقبل سب کے لیے ہے، لیکن ناقدین اسے صرف بڑے کارپوریٹ اداروں کا غلبہ قرار دیتے ہیں۔ عام صارفین کے لیے اوپن ویٹ ماڈلز کی دستیابی ایک اہم بحث بن چکی ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بدلتی دنیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی عام انسانوں کی زندگیوں کو بہتر بنائے گی یا یہ صرف دنیا کے چند امیر ترین افراد اور ارب پتیوں کے کنٹرول میں رہے گی۔ حال ہی میں میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے ایک عوامی پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ہم تاریخ کے ایک ایسے اہم موڑ پر کھڑے ہیں جہاں اے آئی کا مستقبل سب کے لیے روشن ہے۔ تاہم، ٹیک دنیا کے ماہرین اس دعوے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ زکربرگ کا نظریہ یہ ہے کہ اوپن ویٹ ماڈلز کے ذریعے ٹیکنالوجی تک رسائی کو جمہوریت نواز بنایا جا سکتا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک خوش فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑے کارپوریٹ ادارے اے آئی کے بنیادی ڈھانچے اور ڈیٹا پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔ جب تک ان ماڈلز کو عام لوگ اپنی ضرورت کے مطابق استعمال نہیں کر سکتے، تب تک اسے 'سب کے لیے' قرار دینا قبل از وقت ہے۔ کمپیوٹنگ پاور کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مہنگے ترین ڈیٹا سینٹرز اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی صرف وہی کمپنیاں بنا سکتی ہیں جن کے پاس کھربوں ڈالرز موجود ہیں۔ عام صارفین یا چھوٹے ڈویلپرز کے پاس صرف وہی ماڈلز رہ جائیں گے جو کمپنیاں اوپن سورس کے نام پر جاری کریں گی، اور وہ بھی اکثر محدود صلاحیتوں کے حامل ہوں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ہم نے اے آئی کی حکمرانی کو صرف چند ہاتھوں میں مرکوز رہنے دیا، تو معاشرتی اور معاشی عدم مساوات میں مزید اضافہ ہوگا۔ اوپن ویٹ ماڈلز کا خیال بظاہر پرکشش ہے لیکن یہ بڑے اداروں کی اسٹریٹجی کا حصہ ہو سکتا ہے تاکہ وہ ان ماڈلز کے ذریعے اپنی اجارہ داری قائم رکھ سکیں۔ مستقبل کا تعین اس بات سے ہوگا کہ کیا ہم ایسی ٹیکنالوجی کو فروغ دے سکتے ہیں جو واقعی شفاف اور عوامی ملکیت میں ہو، یا پھر ہم صرف ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں فیصلہ سازی کا اختیار صرف چند ارب پتیوں کے پاس ہوگا۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا اوپن اے آئی ماڈلز ٹیکنالوجی کی دنیا میں حقیقی انقلاب لا سکیں گے یا پھر یہ صرف کارپوریٹ مفادات کے حصول کا ایک نیا ذریعہ ثابت ہوں گے۔