LIVE
Loading Breaking News...

امریکی اسٹاک مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا تجزیہ

News Image
امریکہ میں اسٹاک مارکیٹ اپنی بلند ترین سطح کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کے باعث ہوا ہے۔
نیویارک میں کاروبار کے دوران امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور مارکیٹ اپنی ہمہ وقتی ریکارڈ بلندیوں کے قریب کھڑی ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاط برتی جا رہی ہے جس کے باعث اشاریوں میں معمولی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار ہے تاہم جغرافیائی سیاسی حالات اور عالمی اقتصادی اشاریوں کے باعث سرمایہ کار محتاط انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکی معیشت میں استحکام تو ہے مگر خدشات اب بھی موجود ہیں۔ دوسری جانب عالمی توانائی کی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں تیزی کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔ دنیا بھر میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے یہ راستہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی براہ راست عالمی سپلائی چین اور قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ اسٹاک مارکیٹ کے لیے یہ صورتحال دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ جہاں کچھ کمپنیوں کے لیے منافع بخش ہے، وہیں یہ افراط زر کے خدشات کو بھی جنم دیتا ہے۔ سرمایہ کار اب فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں اور معاشی اعداد و شمار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کی اگلی سمت کا تعین کیا جا سکے۔ مجموعی طور پر، وال اسٹریٹ پر غیر یقینی کا سایا ہے لیکن انڈیکسز کی ریکارڈ سطح کے قریب موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ کا اعتماد ابھی تک بحال ہے۔ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں اور عالمی سیاسی حالات کے اثرات امریکی معیشت پر مزید واضح ہوں گے۔