Technology
امریکہ میں ڈرون اور ڈی جے آئی کیمروں پر پابندی کی تفصیلات
امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن نے غیر ملکی ساختہ ڈرونز اور ڈی جے آئی کیمروں کے خلاف اپنی پالیسیوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں اب پرانی منظور شدہ ڈیوائسز کے اجازت نامے بھی منسوخ کیے جا رہے ہیں جس کے اثرات صارفین پر مرتب ہوں گے۔
امریکہ کے فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) کی جانب سے غیر ملکی ساختہ ڈرونز اور مشہور کمپنی ڈی جے آئی (DJI) کے کیمروں پر لگائی گئی پابندیاں اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ حالیہ فیصلوں کے مطابق، کمیشن نہ صرف نئی ڈیوائسز کی درآمد کو روک رہا ہے بلکہ ان تمام ڈرونز کے سابقہ اجازت ناموں کو بھی منسوخ کر رہا ہے جو پہلے مارکیٹ میں فروخت ہو رہے تھے۔ یہ اقدام امریکی سکیورٹی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد ممکنہ جاسوسی کے خدشات کو ختم کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ان تمام صارفین اور کاروباروں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو طویل عرصے سے ان چینی ساختہ ڈیوائسز پر انحصار کر رہے تھے۔
نئے قوانین کے تحت، 2026 میں ڈرونز خریدنے کے خواہشمند افراد کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ایف سی سی کی نئی پالیسی کے مطابق، وہ تمام ڈیوائسز جنہیں ماضی میں منظوری دی گئی تھی، اب غیر قانونی قرار دی جا سکتی ہیں یا ان کی سپورٹ ختم کی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس پہلے سے کوئی DJI ڈرون موجود ہے، تو مستقبل میں اس کے سافٹ ویئر اپڈیٹس، کلاؤڈ سروسز یا مرمت کے پرزہ جات حاصل کرنا ناممکن ہو سکتا ہے۔ صارفین کو اب متبادل کے طور پر امریکی ساختہ یا ان ممالک کے ڈرونز کی طرف دیکھنا ہوگا جو ایف سی سی کی سکیورٹی منظوری پر پورا اترتے ہیں۔
کاروباری شعبے، خاص طور پر فوٹوگرافی، سروے اور زراعت سے وابستہ افراد اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ایف سی سی کا اصرار ہے کہ یہ اقدام ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ ڈرون کیمروں میں موجود ڈیٹا کی منتقلی اور ہیکنگ کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب، انڈسٹری تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی سخت پابندیوں سے مارکیٹ میں مقابلے کی فضا متاثر ہوگی اور قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کوئی بھی نئی ڈیوائس خریدنے سے پہلے ایف سی سی کی منظور شدہ فہرست کو ضرور چیک کریں تاکہ انہیں بعد میں کسی قانونی یا تکنیکی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔