Technology
امریکہ میں پولیس نگرانی: فلوک کیمروں اور خودکار ڈرونز کا بڑھتا ہوا استعمال
امریکی شہروں کی پولیس کی جانب سے نگرانی کے جدید آلات کے طور پر فلوک کیمروں کے بعد اب خودکار ڈرونز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے نجی زندگی کی رازداری اور شہری حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
امریکہ کے مختلف شہروں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اب نگرانی کے نظام کو مزید جدید اور خودکار بنانے کی جانب گامزن ہیں۔ ابتدائی طور پر 'فلوک' (Flock) کیمروں کے ذریعے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس اور نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے بعد، اب پولیس محکمے خودکار ڈرونز کو اپنے آپریشنز کا باقاعدہ حصہ بنا رہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی پولیس کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ انسانی عمل دخل کے بغیر شہر کے مختلف علاقوں کی نگرانی کر سکے اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دے سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم پولیسنگ کے روایتی طریقوں میں ایک بہت بڑی تبدیلی ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کے حامیوں کا موقف ہے کہ خودکار ڈرونز سے جرائم کی شرح میں کمی لانے اور ہنگامی حالات میں ریسکیو ٹیموں کی مدد کرنے میں غیر معمولی مدد ملتی ہے۔ ان ڈرونز کی مدد سے پولیس دور دراز یا مشکل مقامات تک پہنچنے میں کم وقت صرف کرتی ہے، جس سے قیمتی جانیں بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم، ناقدین اور شہری حقوق کی تنظیموں نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بغیر پائلٹ کے اڑنے والے یہ ڈرونز عوام کی نجی زندگی میں براہ راست مداخلت کا باعث بن رہے ہیں، کیونکہ ان کی نگرانی میں ہر عام شہری کا ہر قدم ریکارڈ ہو رہا ہوتا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا مزید کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا یہ بے لگام استعمال 'سرویلنس اسٹیٹ' یا نگرانی کرنے والی ریاست کے قیام کی جانب ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ خاص طور پر کم آمدنی والے علاقوں میں ان ڈرونز کا زیادہ استعمال امتیازی سلوک کی شکایات کو بھی جنم دے رہا ہے۔ حکام کو اب اس بات کا سامنا ہے کہ وہ عوامی تحفظ اور ذاتی آزادی کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھیں۔ اگرچہ پولیس اسے جدید دور کی ضرورت قرار دیتی ہے، لیکن عوامی سطح پر اس نگرانی کے نظام کی شفافیت اور ڈیٹا کے غلط استعمال کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کا ضابطہ اخلاق طے کرنا امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔