LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں: ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں کا امتحان

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں عارضی وقفے کے بعد بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اثرورسوخ اور ان کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے دعووں کا اصل امتحان ہو رہا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے بعد اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ اپنی روایتی بیان بازی سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو نیچے لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں وقفے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے برینٹ خام تیل کی قیمتیں نوے ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں۔ اس صورتحال نے ایک بار پھر عالمی توانائی کی منڈیوں کو مباحثے کا مرکز بنا دیا ہے۔ اقتصادی ماہرین اور توانائی کے تجزیہ کار اس پیش رفت کو انتہائی باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور افراط زر پر پڑتا ہے۔ دوسری جانب، سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا امریکی قیادت یا سابقہ انتظامیہ کے اقدامات کا عالمی منڈیوں پر اب بھی کوئی گہرا اثر باقی ہے یا نہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران کے مابین تنازعہ تھمنے کے آثار کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں نے سکھ کا سانس لیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے باوجود، مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے خطرات ابھی پوری طرح ٹلے نہیں ہیں اور منڈی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی وقت حالات دوبارہ کروٹ لے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کے تاجر اور سرمایہ کار انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور ہر چھوٹی بڑی خبر پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات بھی زیر بحث ہیں جن میں وہ تیل کی پیداوار بڑھا کر اور سیاسی دباؤ کے ذریعے قیمتوں کو کم رکھنے کی صلاحیت کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ اب جب کہ عالمی منڈی ایک بار پھر ایک حساس موڑ پر کھڑی ہے، یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ان کی پالیسیاں یا بیانات تیل کی منڈی پر کوئی دیرپا اور مثبت اثر ڈال پاتے ہیں یا نہیں۔