LIVE
Loading Breaking News...

امریکی وفاقی اداروں کا ہیلتھ ڈیٹا شیئرنگ نیٹ ورک میں اہم اضافہ

News Image
امریکہ کے مختلف وفاقی اداروں نے ہیلتھ ڈیٹا کے تبادلے کو بہتر بنانے کے لیے قائم گورننگ کونسل میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس اقدام کا مقصد وفاقی سطح پر صحت سے متعلق معلومات تک رسائی کو محفوظ اور تیز تر بنانا ہے۔
امریکی حکومت کے اہم وفاقی اداروں نے ایک بڑی پیش رفت کے تحت ہیلتھ ڈیٹا سپر ہائی وے کو چلانے والی گورننگ کونسل میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس اقدام کو ڈیجیٹل ہیلتھ انفراسٹرکچر کی مضبوطی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ کنزیومر پروڈکٹ سیفٹی کمیشن، سوشل سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن اور انڈین ہیلتھ سروس سمیت دیگر اداروں کے حکام اب اس کونسل کا حصہ بن چکے ہیں، جس کا بنیادی مقصد وفاقی سطح پر صحت سے متعلق معلومات کے تبادلے کو مربوط اور تیز تر بنانا ہے۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت، وفاقی ایجنسیاں صحت کے شعبے میں ڈیٹا کے معیار اور اس کے تحفظ کے لیے کام کریں گی۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدام صحت کے قومی نیٹ ورک کو مزید مستحکم کرے گا، جس سے مریضوں کے ڈیٹا تک رسائی اور طبی فیصلہ سازی میں شفافیت آئے گی۔ یہ کونسل نہ صرف ڈیٹا کے معیارات طے کرے گی بلکہ مختلف سرکاری اداروں کے درمیان ڈیجیٹل تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھی ایک پلیٹ فارم مہیا کرے گی، جس سے طویل المدتی طور پر عوامی صحت کے منصوبوں میں بہتری متوقع ہے۔ تاہم، اس پیش رفت کے ساتھ ہی ڈیٹا کی سیکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنے وسیع پیمانے پر ڈیٹا شیئرنگ کے نیٹ ورک میں وفاقی اداروں کی شمولیت کے ساتھ ہی سائبر سیکیورٹی کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ حکومتی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ڈیٹا کے تحفظ کے لیے جدید ترین انکرپشن اور پروٹوکولز کا استعمال کیا جائے گا تاکہ عام شہریوں کی حساس معلومات کو کسی بھی قسم کے غیر مجاز استعمال سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ کونسل آئندہ چند ماہ میں اپنے پہلے ایکشن پلان کا اعلان بھی کرے گی جس میں ڈیٹا کے استعمال کے ضوابط واضح کیے جائیں گے۔