Technology
ناسا کا مشن: سورج گرہن کے مشاہدے کے لیے خصوصی طیارہ آئس لینڈ میں
ناسا کا WB-57F کینبرا طیارہ آئس لینڈ پہنچ چکا ہے جہاں سے یہ 12 اگست کو سورج گرہن کے راستے میں پرواز بھرے گا۔ اس سائنسی مشن کا مقصد سورج گرہن کے دوران خلائی اور فلکیاتی مظاہر کا قریب سے جائزہ لینا ہے۔
امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا خصوصی تحقیق طیارہ 'WB-57F کینبرا' 10 اگست 2026 کو آئس لینڈ کے کیفلاوک ایئرپورٹ پر کامیابی کے ساتھ پہنچ گیا ہے۔ یہ طیارہ ایک اہم سائنسی مشن پر مامور ہے جس کا بنیادی مقصد 12 اگست کو رونما ہونے والے سورج گرہن کا براہ راست اور باریک بینی سے مشاہدہ کرنا ہے۔ اس مشن کے لیے طیارے کو خصوصی آلات سے لیس کیا گیا ہے تاکہ سورج گرہن کے دوران فضا اور خلائی مظاہر کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکے۔
طیارہ، جسے فلائٹ 'NASA926' کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، ایلیٹنگٹن سے اپنی پرواز مکمل کرتے ہوئے آئس لینڈ پہنچا۔ حکام کے مطابق، 12 اگست کو یہ طیارہ اپنے مقررہ وقت پر پرواز بھرے گا اور سورج گرہن کے عین راستے (Path of Totality) کے اوپر سے گزرے گا۔ اس دوران طیارے پر موجود جدید کیمرے اور سینسرز سورج کے بیرونی کرونل حصوں اور دیگر فلکیاتی تبدیلیوں کو ریکارڈ کریں گے جو زمین سے دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
اس مشن کی اہمیت کے پیش نظر ماہرین فلکیات اسے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ ہائی الٹیٹیوڈ پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے WB-57F کینبرا طیارہ بادلوں اور زمین کی نچلی فضا سے اوپر جا کر سورج گرہن کے ان مناظر کو قید کر سکتا ہے جو سائنسی تحقیق کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ناسا کی جانب سے اس مشن کے لیے کئی ہفتوں سے تیاریاں جاری تھیں اور اب طیارے کے آئس لینڈ میں لینڈ کرنے کے بعد حتمی تکنیکی جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس تحقیق سے سورج کی شعاعوں اور زمین کے ماحول پر ان کے اثرات کو سمجھنے میں نئی راہیں کھلیں گی۔ اس سے قبل بھی ناسا اسی قسم کے طیاروں کو مختلف فلکیاتی واقعات کے مطالعے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ آئس لینڈ کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ یہ علاقہ سورج گرہن کے راستے میں بہترین پوزیشن فراہم کرتا ہے جہاں سے سائنسی آلات بلا تعطل اپنا کام جاری رکھ سکیں گے۔