Environment
کیلیفورنیا کا کاربن اسٹوریج پراجیکٹ اور ماحولیاتی خدشات
کیلیفورنیا میں تیل کے ایک پرانے کنویں کو کاربن ذخیرہ کرنے والے مقام میں تبدیل کر دیا گیا ہے، لیکن ریاستی قوانین کی عدم موجودگی نے تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر اس منصوبے کے دوران کوئی حادثہ پیش آیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔
کیلیفورنیا نے حال ہی میں ریاست کے پہلے تجارتی کاربن ذخیرہ کرنے والے منصوبے (کاربن والٹ) کا آغاز کیا ہے، جسے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، یہ منصوبہ ایک بڑے قانونی خلا کے سائے میں کام کر رہا ہے، کیونکہ ریاست نے ابھی تک ان لازمی قواعد و ضوابط کو اختیار نہیں کیا ہے جو اس طرح کے منصوبوں کے لیے قانوناً درکار تھے۔ اس اہم ڈیڈ لائن کو گزرے ہوئے اب انیس ماہ ہو چکے ہیں، جس کے بعد سے ماحولیاتی کارکنوں اور تیل کمپنیوں کے درمیان ایک نئی کشمکش شروع ہو گئی ہے۔
اس منصوبے کے تحت تیل نکالنے والے ایک پرانے کنویں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو زمین کے اندر محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ متعلقہ قواعد کی عدم موجودگی میں، اگر زمین کے اندر محفوظ کاربن گیس کا اخراج ہوتا ہے یا کسی قسم کا ماحولیاتی نقصان پہنچتا ہے، تو اس کا جواب دہ کون ہوگا۔ تیل کمپنیاں اس منصوبے کے ذریعے اربوں ڈالر کے عوامی مراعات اور ٹیکس ریلیف حاصل کر سکتی ہیں، لیکن ماحولیاتی تحفظ کے لیے کوئی واضح پالیسی نہ ہونا عوام اور مقامی آبادی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کاربن سٹوریج کے عمل میں کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہوئی، تو یہ زیر زمین پانی کے ذخائر اور مقامی ماحول کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، تیل کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی خالص صفر اخراج کے اہداف کو حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ریاستی حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ جلد از جلد ایسے قوانین وضع کریں جن کے تحت ان منصوبوں کی سخت مانیٹرنگ کی جا سکے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ذمہ داری کا تعین قانونی طور پر ممکن ہو۔
یہ صورتحال اب ایک بڑی بحث کو جنم دے رہی ہے کہ کیا نجی کمپنیوں کو عوامی فلاح کے نام پر ایسی ٹیکنالوجیز کے لیے کھلی چھوٹ دی جانی چاہیے جن کے حفاظتی معیارات ابھی تک طے نہیں کیے گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیلیفورنیا کی ریاستی حکومت کب تک ان قوانین کو حتمی شکل دیتی ہے اور آیا یہ اقدامات ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کافی ثابت ہوں گے یا یہ منصوبہ صرف کارپوریٹ منافع تک محدود رہ جائے گا۔