World
آبنائے ہرمز تنازعہ: ایران کا امریکا کو سخت انتباہ
ایران نے واضح کیا ہے کہ اہم ترین تجارتی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز تب تک بند رہے گی جب تک واشنگٹن تہران کے مطالبات کو قبول نہیں کر لیتا۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ علاقائی صورتحال پر ان کا مکمل کنٹرول ہے اور وہ کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
تہران کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ خلیج فارس میں واقع دنیا کی سب سے اہم تجارتی آبی گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' تب تک بند رہے گی جب تک امریکا ایران کی جانب سے پیش کردہ شرائط کو تسلیم نہیں کر لیتا۔ ایرانی عہدیداران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو اس تنازعہ کے حل کے لیے تہران کے مطالبات کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہوگا، بصورت دیگر اس بین الاقوامی گزرگاہ پر ایرانی کنٹرول برقرار رہے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور عالمی طاقتیں آبنائے ہرمز کی بندش کے معاشی اثرات پر شدید تشویش کا شکار ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے قومی مفادات اور مطالبات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ امریکا کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں اور جارحانہ پالیسیاں ہی موجودہ بحران کی ذمہ دار ہیں۔ خلیجی ممالک کی جانب سے بھی اس صورتحال کو ایک نئی حقیقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایران کی عسکری اور تزویراتی موجودگی اس گزرگاہ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ عمان جیسے ممالک کی جانب سے بات چیت کی کوششیں جاری ہیں، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ محض مذاکرات سے آبنائے ہرمز کے کھلنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی جب تک ٹھوس اقدامات نہ کیے جائیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس گزرگاہ کے ذریعے دنیا بھر میں تیل کی بڑی مقدار سمندری راستوں سے منتقل ہوتی ہے اور کسی بھی قسم کی بندش عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ ایران کی یہ سخت پالیسی واشنگٹن کے لیے ایک چیلنج ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ اور دیگر مغربی ممالک اس گزرگاہ کو کھلا رکھنے کے خواہشمند ہیں۔ ایران نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ اس تزویراتی راستے کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
مستقبل قریب میں صورتحال کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کیا امریکا ایران کی شرائط پر غور کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ تہران کا یہ سخت موقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ خطے میں اپنی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر یہ تعطل مزید طول پکڑتا ہے تو خلیجی خطے میں جنگ کے بادل چھا سکتے ہیں جس کے اثرات نہ صرف تیل کی قیمتوں پر بلکہ عالمی امن و امان پر بھی مرتب ہوں گے۔ ایران نے اپنے مطالبات میں کسی قسم کی نرمی لانے سے انکار کرتے ہوئے اسے اپنی قومی خود مختاری کا معاملہ قرار دیا ہے۔