Business
عالمی منڈی میں تیل مہنگا: امریکہ ایران کشیدگی کے اثرات
آبنائے ہرمز کے تنازع اور امریکہ و ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث وال اسٹریٹ کے حصص میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بھی ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
وال اسٹریٹ میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سفارتی معاملات میں تعطل ہے۔ سرمایہ کاروں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی ممکنہ معاہدے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں، جس کا براہ راست اثر عالمی اسٹاک مارکیٹس پر مرتب ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خطے میں سمندری راستوں پر حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی تجارت اور معاشی استحکام کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
دوسری جانب، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت 83 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایران کی جانب سے یہ واضح بیان سامنے آیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک کہ ان کی شرائط پوری نہیں ہو جاتیں۔ تیل کی سپلائی میں تعطل کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے اور توانائی کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، جب تک دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوتی، تب تک عالمی معیشت پر اس تنازع کے منفی اثرات جاری رہیں گے۔ وال اسٹریٹ پر مندی کا رحجان اس بات کا غماز ہے کہ تجارتی ادارے خطے میں کسی بھی بڑی فوجی کارروائی یا مزید کشیدگی کے امکان سے خائف ہیں۔ آنے والے دنوں میں عالمی منڈی کی سمت کا انحصار مکمل طور پر مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاسی اور عسکری صورتحال پر ہوگا۔
مجموعی طور پر، توانائی کے بحران کے خدشات اور حصص کی قیمتوں میں گراوٹ نے عالمی مالیاتی اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ غیر یقینی صورتحال میں احتیاط برتیں کیونکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر کے صارفین اور کاروباری ادارے متاثر ہوں گے۔