Health
سورج گرہن دیکھنے سے آنکھیں کیوں خراب ہوتی ہیں؟ ایک تشویشناک کیس اسٹڈی
سال 2017 کے دوران سورج گرہن کو چند سیکنڈز تک ننگی آنکھوں سے دیکھنے والی ایک خاتون کی ریٹینا پر گرہن کا مستقل نشان بن گیا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سورج کی شعاعیں انسانی آنکھ کو کتنی تیزی سے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
سال 2017 میں پیش آنے والا ایک طبی واقعہ پوری دنیا کے لیے سورج گرہن کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا ایک سبق بن گیا ہے۔ ایک نوجوان خاتون نے سورج گرہن کے نظارے کو براہِ راست دیکھنے کی کوشش کی، جس کے لیے اس نے کسی خاص حفاظتی چشمے کا استعمال نہیں کیا تھا۔ یہ عمل محض چند سیکنڈز پر محیط تھا، لیکن اس مختصر وقت میں سورج کی خطرناک الٹرا وائلٹ شعاعوں نے اس کی آنکھ کے پچھلے حصے یعنی ریٹینا کو شدید متاثر کر دیا۔ واقعے کے کچھ ہی دنوں بعد جب ڈاکٹروں نے خاتون کا طبی معائنہ کیا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ خاتون کی آنکھ کے اندر بالکل اسی شکل کا داغ بن چکا تھا جیسا کہ سورج گرہن کا منظر تھا۔
میڈیکل رپورٹس کے مطابق، خاتون نے جب اپنی خراب ہونے والی بصارت کو بیان کرنے کے لیے کاغذ پر تصویر کشی کی تو وہ ڈرائنگ ہوبہو سورج گرہن کی شکل سے مطابقت رکھتی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سورج کی روشنی نے انسانی آنکھ کے اندر ایک مستقل 'فوٹوگرافک نیگیٹو' بنا دیا تھا۔ ماہرینِ چشم کا کہنا ہے کہ ریٹینا کا یہ حصہ، جسے میکولا کہا جاتا ہے، روشنی کے لیے انتہائی حساس ہوتا ہے۔ جب سورج کی شعاعیں براہِ راست اس پر پڑتی ہیں تو یہ ایک کیمیائی عمل کے ذریعے خلیات کو جلا دیتی ہیں، جس کی وجہ سے بینائی ہمیشہ کے لیے ضائع ہو سکتی ہے یا اس میں مستقل دھبہ پڑ جاتا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ سورج گرہن کو ننگی آنکھوں سے دیکھنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے، چاہے وہ چند سیکنڈ کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ اس کیس نے طبی دنیا میں آنکھوں کی حفاظت سے متعلق شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹروں نے زور دیا ہے کہ گرہن کے دوران عام دھوپ کے چشمے یا ناقص فلٹرز کا استعمال بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ہمیشہ آئی ایس او (ISO) سے منظور شدہ مخصوص سولر فلٹر والے چشمے ہی استعمال کیے جانے چاہئیں۔
آخر میں، یہ کہانی ایک انتباہ ہے کہ قدرت کے مظاہر کو دیکھنے کے شوق میں اپنی صحت کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔ بصارت کی یہ چوٹ، جو اس خاتون کو لگی، ناقابلِ تلافی تھی اور اس نے یہ ثابت کر دیا کہ روشنی کا یہ کھیل انسانی جسم کے لیے کتنا مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مستقبل میں کسی بھی گرہن کے موقع پر حفاظتی پروٹوکولز پر سختی سے عمل کیا جائے تاکہ ایسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔