LIVE
Loading Breaking News...

منشیات کی جانچ اور ٹیسٹ سٹرپس کی حقیقت: مکمل آگاہی

News Image
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ منشیات کی جانچ کے لیے استعمال ہونے والی سٹرپس صرف مخصوص مواد کی موجودگی کا پتہ دیتی ہیں لیکن یہ اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ وہ مادہ انسانی استعمال کے لیے محفوظ ہے۔ کسی بھی ممنوعہ نشہ آور شے کا استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور ٹیسٹ سٹرپس کی محدود صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا خطرناک ہے۔
فینٹینیل ٹیسٹ سٹرپس موجودہ دور میں منشیات کے استعمال سے منسلک خطرات کو کم کرنے کے لیے ایک ٹول کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں، تاہم طبی ماہرین اور سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ان سٹرپس کی افادیت نہایت محدود ہے۔ ایک فینٹینیل ٹیسٹ سٹرپ کا بنیادی کام صرف یہ بتانا ہے کہ آیا دی گئی منشیات کے نمونے میں فینٹینیل موجود ہے یا نہیں۔ یہ ٹیسٹ اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ اس میں کتنی مقدار موجود ہے، منشیات کا اثر کتنا شدید ہے، یا اس میں کوئی اور خطرناک ملاوٹ کی گئی ہے یا نہیں۔ لوگ اکثر ان سٹرپس کو ایک 'حفاظتی سرٹیفکیٹ' سمجھ لیتے ہیں جو کہ ایک انتہائی مہلک غلط فہمی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ سٹرپس کسی بھی صورت میں اس بات کی ضمانت نہیں دیتیں کہ نشہ آور مادہ محفوظ ہے۔ جب کوئی شخص کسی غیر قانونی منشیات کا استعمال کرتا ہے، تو اسے کبھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں کون کون سے دیگر کیمیکل، زہریلے مادے یا خطرناک ملاوٹیں موجود ہیں۔ فینٹینیل کے علاوہ، مارکیٹ میں کئی ایسی مصنوعی ادویات اور کیمیکلز موجود ہیں جو جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں اور جنہیں عام ٹیسٹ سٹرپس کے ذریعے شناخت کرنا ناممکن ہے۔ اس لیے ان ٹیسٹ سٹرپس کو منشیات کے استعمال کو محفوظ بنانے کا ذریعہ سمجھنا حقیقت کے منافی ہے۔ طبی حلقوں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ 'ہارم ریڈکشن' (نقصان میں کمی) کی کوششوں کے دوران لوگ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اگر سٹرپ نے فینٹینیل کی موجودگی ظاہر نہیں کی، تو وہ مادہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ سوچ خودکشی کے مترادف ہے۔ کسی بھی قسم کی غیر قانونی منشیات کا استعمال انسانی جسم کے اعضاء پر تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ ٹیسٹ سٹرپس صرف ہنگامی بنیادوں پر معلومات فراہم کرنے کے لیے ہوتی ہیں، نہ کہ انہیں کسی محفوظ استعمال کے معیار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ عوامی آگاہی مہمات میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ منشیات کے کسی بھی قسم کے استعمال سے گریز ہی واحد محفوظ راستہ ہے۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ منشیات کی جانچ کرنے والی ٹیکنالوجی کی اپنی حدود ہیں۔ یہ سٹرپس صرف ایک خاص قسم کے زہر کی نشاندہی کر سکتی ہیں، لیکن وہ ہزاروں دیگر جان لیوا کیمیکلز سے آپ کو نہیں بچا سکتیں۔ والدین، نوجوانوں اور معاشرے کے دیگر طبقات کو یہ جاننا چاہیے کہ نشہ آور اشیاء کی تیاری کے عمل میں کوئی معیار نہیں ہوتا، اور ہر بار استعمال ہونے والا مادہ مختلف اور پہلے سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ صحت حکام کی جانب سے عوام کو تلقین کی جا رہی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی سائنسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کریں۔