LIVE
Loading Breaking News...

خون کی صفائی کے نئے طبی امکانات: مائیکرو پلاسٹک اور پی ایف اے ایس کا خاتمہ

News Image
ایک تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ کولیسٹرول کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے فلٹرز انسانی خون سے مائیکرو پلاسٹک اور خطرناک کیمیکلز کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ طبی طریقہ کار مستقبل میں انسانی صحت کو درپیش ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
جدید طبی تحقیق کے مطابق دل کے امراض اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہونے والا ایک خاص فلٹر اب ایک اور اہم کام بھی سرانجام دے سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی، جو بنیادی طور پر خون سے چربی کے اضافی اجزاء کو نکالنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، اب انسانی خون میں موجود انتہائی باریک 'مائیکرو پلاسٹک' اور پی ایف اے ایس (PFAS) جیسے پائیدار مصنوعی کیمیکلز کو فلٹر کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ دریافت انسانی صحت کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ آج کل کے ماحول میں مائیکرو پلاسٹک اور مضر کیمیکلز انسانی جسم میں بڑی مقدار میں داخل ہو رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، جب مریض کے خون کو اس خاص فلٹریشن عمل سے گزارا جاتا ہے تو یہ فلٹر نہ صرف کولیسٹرول کے ذرات کو پکڑتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ خون میں موجود غیر مرئی پلاسٹک کے باریک ذرات اور صنعتی کیمیکلز کو بھی اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ پی ایف اے ایس کیمیکلز، جنہیں اکثر 'فار ایور کیمیکلز' (ہمیشہ رہنے والے کیمیکلز) کہا جاتا ہے، انسانی اعضاء اور خون میں طویل عرصے تک موجود رہ کر صحت کے سنگین مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ اس نئے طبی طریقہ کار سے ان زہریلے مادوں کو خون سے نکالنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی فی الحال خاص طبی حالات کے لیے استعمال ہوتی ہے، لیکن مستقبل میں اس کے دائرہ کار کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طریقہ کار کو بڑے پیمانے پر عام کرنے کے لیے مزید کلینیکل ٹرائلز اور تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ خون کی صفائی کے دوران کوئی ضروری غذائی اجزاء یا پروٹین ضائع نہ ہوں۔ یہ پیش رفت نہ صرف قلبی امراض کے مریضوں کے لیے بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے جو ماحول میں موجود مائیکرو پلاسٹک کے اثرات سے پریشان ہیں۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ان لوگوں کا علاج ممکن ہو سکے گا جن کے خون میں طویل عرصے سے نقصان دہ کیمیکلز جمع ہو چکے ہیں۔ یہ طبی ایجاد اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی نہ صرف بیماریوں کا علاج کر سکتی ہے بلکہ ماحول کی آلودگی کے انسانی جسم پر پڑنے والے اثرات کو بھی زائل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ طبی دنیا میں اسے ایک اہم کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے برسوں میں اس پر مزید تحقیق سے جدید ترین علاج کے راستے ہموار ہوں گے۔