LIVE
Loading Breaking News...

اسمارٹ فونز اور پرائیویسی: رچرڈ اسٹالمن کی تشویشناک پیشگوئی

News Image
مشہور سافٹ ویئر ماہر رچرڈ اسٹالمن نے موبائل فونز کو شہریوں کی جاسوسی کا آلہ قرار دیتے ہوئے انہیں اسٹالن کے دور کی نگرانی سے تشبیہ دی ہے۔ انہوں نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ڈیجیٹل پرائیویسی کے تحفظ کے لیے محتاط رہیں۔
فری سافٹ ویئر کے بانی اور ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف نام رچرڈ اسٹالمن نے حال ہی میں اسمارٹ فونز کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک بیان دیا ہے۔ اسٹالمن، جو اپنی بے باک رائے اور ڈیجیٹل آزادی کے لیے طویل عرصے سے مہم چلا رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ آج کے جدید دور میں اسمارٹ فونز درحقیقت شہریوں کی نگرانی کرنے والے آلات بن چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اسمارٹ فونز کی ٹریکنگ صلاحیتوں کو 'اسٹالن کا خواب' قرار دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومتی اور نجی ادارے اب ہر شہری کی ہر حرکت پر نظر رکھنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ اسٹالمن کے مطابق، اسمارٹ فونز کے اندر موجود سینسرز، جی پی ایس، اور دیگر ٹریکنگ ٹیکنالوجیز اس طرح ڈیزائن کی گئی ہیں کہ صارف کی مرضی کے بغیر ان کا ڈیٹا مسلسل مرکزی سرورز کو بھیجا جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا صرف صارف کی سہولت کے لیے نہیں، بلکہ ان کی عادات، مقامات، اور سماجی تعلقات کا پروفائل بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ماضی میں جس طرح کے نگرانی کے نظام صرف آمرانہ ریاستوں کا خاصہ تھے، آج وہی نظام ٹیکنالوجی کے نام پر ہر شخص کی جیب میں موجود ہے، جس سے انفرادی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ٹیکنالوجی کے اس ماہر کا ماننا ہے کہ اگر صارفین اپنی ڈیجیٹل پرائیویسی کے تحفظ میں سنجیدہ نہیں ہوئے، تو مستقبل قریب میں مکمل نگرانی کا نظام معاشرے کو غلام بنا دے گا۔ وہ طویل عرصے سے اوپن سورس سافٹ ویئر اور پرائیویسی پر مبنی ہارڈ ویئر کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک ٹیکنالوجی کا مقصد انسان کی زندگی کو آسان بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ اس کی زندگی کو ایک کھلی کتاب بنا کر اسے ہر وقت نگرانی کے حصار میں رکھنا۔ رچرڈ اسٹالمن کا یہ بیان ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اخلاقیات پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے، جو منافع کے لیے صارفین کی معلومات کو فروخت کر رہی ہیں۔ آخر میں، اسٹالمن نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اسمارٹ فونز کے استعمال میں حد درجہ احتیاط برتیں اور جہاں تک ممکن ہو، ایسی ٹیکنالوجیز کا انتخاب کریں جو صارف کی نجی معلومات کو محفوظ رکھنے کی ضمانت دیتی ہوں۔ ان کا یہ انتباہ پوری دنیا میں ٹیکنالوجی کے ماہرین اور پرائیویسی کے علمبرداروں کے لیے ایک بیداری کی کال ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے انسانی حقوق پر اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔