World
ایچ-1 بی ویزا تنازعہ: کیا یہ پروگرام امریکیوں کی بے روزگاری کی وجہ ہے؟
ایچ-1 بی ویزا پروگرام جس کا مقصد ماہرین کی کمی پورا کرنا تھا، اب امریکی ملازمتوں کے نقصان کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیاں اسے مقامی افراد کو بے روزگار کر کے سستے غیر ملکی ورکرز رکھنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
ایچ-1 بی ویزا پروگرام کا آغاز جب کیا گیا تھا تو امریکی عوام کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ یہ پروگرام صرف انتہائی نایاب اور اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کے لیے ایک محدود راستہ ہوگا۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ کو اپنے اہم شعبوں میں ان 'بہترین اور ذہین ترین' افراد کی ضرورت ہے جو ملک کے اندر دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم، گزشتہ کچھ عرصے سے اس پروگرام کی شفافیت اور مقاصد پر سخت تنقید کی جا رہی ہے، اور اسے اب مقامی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے ایک خطرہ سمجھا جانے لگا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ پروگرام ان مقاصد سے ہٹ کر استعمال کیا جا رہا ہے جن کے لیے اسے تشکیل دیا گیا تھا۔
حالیہ رپورٹس اور تجزیوں سے پتہ چلتا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور دیگر کارپوریٹ ادارے ایچ-1 بی ویزا کو ایک ایسی حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں جس کا مقصد مقامی امریکی ملازمین کی جگہ سستے غیر ملکی ورکرز کو بھرتی کرنا ہے۔ بہت سی کمپنیاں اپنے تجربہ کار اور مقامی ملازمین کو ملازمت سے نکال رہی ہیں اور انہی کی جگہ کم معاوضے پر ویزا ہولڈرز کو ترجیح دے رہی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف امریکی ورک فورس کے لیے بے روزگاری کا باعث بن رہا ہے بلکہ کمپنیوں کے منافع کو بڑھانے کے لیے لیبر مارکیٹ کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ 'ٹیلنٹ کی کمی' کا بہانہ بنا کر دراصل لیبر کاسٹ کم کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
اس صورتحال نے امریکی سیاسی اور معاشی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ قانون سازوں کا ایک گروپ اس پروگرام میں سخت اصلاحات کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ غیر ملکی ورکرز صرف ان شعبوں میں آئیں جہاں واقعی مہارت کی شدید قلت ہے۔ اگر اس پروگرام کی نگرانی کو مزید سخت نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ امریکی ٹیکنالوجی اور دیگر اہم شعبوں میں مقامی افراد کے لیے مواقع مزید محدود ہو جائیں گے۔ حکومت کے لیے اب یہ چیلنج بن گیا ہے کہ وہ ایک طرف عالمی مسابقت برقرار رکھے اور دوسری طرف اپنے مقامی ورک فورس کے مفادات کا تحفظ کرے۔
آخر میں، یہ معاملہ صرف ایک ویزا پالیسی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ امریکی مڈل کلاس کی ملازمتوں کے مستقبل سے جڑ چکا ہے۔ عوامی مطالبہ یہی ہے کہ ایچ-1 بی ویزا کے اجرا کے عمل کو شفاف بنایا جائے اور ان کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو مقامی ملازمین کو برطرف کر کے اس نظام کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں امیگریشن پالیسیوں میں بڑی تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ امریکی لیبر مارکیٹ کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔