World
آبِ ہرمز کی بندش اور ایران امریکہ کشیدگی کی تازہ ترین صورتحال
ایرانی سیکیورٹی کونسل نے واضح کیا ہے کہ آبِ ہرمز کو اس وقت تک بند رکھا جائے گا جب تک واشنگٹن تہران کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا۔ اس اعلان سے خلیجی خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایرانی سیکیورٹی کونسل نے ایک اہم پالیسی بیان میں واضح کیا ہے کہ اسٹریٹ آف ہرمز (آبِ ہرمز) کو اس وقت تک بند رکھا جائے گا جب تک امریکہ تہران کی جانب سے پیش کردہ مطالبات اور شرائط پر عمل درآمد نہیں کرتا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایران کا یہ سخت موقف خلیجی خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے جہاں عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری گزرگاہوں کا کنٹرول ایک اہم تنازعہ بن چکا ہے۔
دوسری جانب، خلیجی ریاستوں نے اس صورتحال کو ایک نئے معمول کے طور پر قبول کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ مبصرین کا ماننا ہے کہ خطے میں ایران کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ عالمی طاقتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اومان کی جانب سے ہونے والے حالیہ مذاکرات کو اگرچہ کچھ حلقوں کی طرف سے مثبت قرار دیا گیا تھا، تاہم ایرانی حکام کی طرف سے یہ انتباہ سامنے آ چکا ہے کہ محض بات چیت سے آبِ ہرمز فوری طور پر نہیں کھلے گا جب تک کہ بنیادی مطالبات پر اتفاق رائے نہیں ہو جاتا۔
نیویارک ٹائمز اور رائٹرز سمیت بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تہران اپنے مؤقف پر چٹان کی طرح قائم ہے اور جب تک ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے مطالبات پر مثبت پیش رفت نہیں ہوتی، اس اہم تجارتی راستے پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔ اس صورتحال نے عالمی تیل کی منڈیوں اور توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے کے ذریعے تیل اور دیگر اشیاء کی ترسیل پر انحصار کرتا ہے۔