Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 83 ڈالر فی بیرل سے تجاوز، تازہ ترین صورتحال
امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی امیدیں دم توڑنے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرینِ توانائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں جاری کشیدگی تیل کی سپلائی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
عالمی منڈی میں ایک بار پھر خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور کسی ممکنہ معاہدے کی امیدوں کا دم توڑنا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت 83 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کر گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں بہتری نہ آئی تو عالمی سطح پر توانائی کا بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے بیانات نے تیل کی سپلائی چین کے حوالے سے عالمی خدشات کو دوچند کر دیا ہے۔
ماہرینِ توانائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی نقل و حمل کا ایک انتہائی اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، اس سمندری راستے کو کھولنا ممکن نہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر ایشیائی اور یورپی منڈیوں کے لیے تشویشناک ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اس راستے پر انحصار کرتی ہیں۔ مختلف عالمی نیوز اداروں کی رپورٹوں کے مطابق، سمندری حدود میں جاری کشیدگی نے بھی خطے میں سکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے جس کے اثرات براہِ راست تیل کی قیمتوں میں اضافے کی شکل میں ظاہر ہو رہے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انڈسٹری ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں قیمتوں کا تعین اس بات پر ہوگا کہ آیا امریکہ اور ایران کسی درمیانی راستے پر متفق ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر خطے میں جاری فوجی اور سفارتی کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں ہے۔ سرمایہ کار اس صورتحال کو انتہائی گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام عالمی معیشت کے لیے ایک بڑی چیلنج ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے حالات کو قابو میں کرنے کی کوششیں کی جائیں گی تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔