LIVE
Loading Breaking News...

ہانگ کانگ کا کارکن: برطانیہ میں رہنے کی اجازت مل گئی

News Image
برطانیہ میں داخلے پر پابندی اور ملک بدری کے خطرے کا سامنا کرنے والے ہانگ کانگ کے کارکن کو آخرکار ملک میں رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ہیتھرو ہوائی اڈے پر گھنٹوں حراست میں رکھے جانے اور بی بی سی کو انٹرویو دینے کے بعد سامنے آیا۔
برطانیہ میں حکام نے ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے ایک سیاسی کارکن کو ملک میں رہنے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے، جنہیں حال ہی میں ملک بدری کے سنگین خطرے کا سامنا تھا۔ اس سے قبل برطانوی سرحدی حکام نے لندن کے ہیتھرو ہوائی اڈے پر کارروائی کرتے ہوئے موصوف کارکن کو کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا تھا اور انہیں ملک میں داخل ہونے سے سختی سے روک دیا تھا۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور برطانیہ میں مقیم ہانگ کانگ کے تارکین وطن کے حلقوں میں سخت تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔ حراست میں لیے جانے کے بعد اس کارکن نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی تھی، جس میں انہوں نے اپنے اوپر عائد کردہ پابندیوں اور وطن واپسی کی صورت میں درپیش سیکیورٹی خدھشات سے کھل کر آگاہ کیا تھا۔ ان کے اس انٹرویو کے بعد میڈیا پر زبردست دباؤ بڑھ گیا اور انسانی حقوق کےتعدد فعال کارکنان نے برطانوی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ اس عوامی دباؤ اور قانونی چارہ جوئی کے امکانات کے پیش نظر، متعلقہ برطانوی حکام نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی اور بالاخر ان کا کیس منظور کر لیا۔ حکام کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد اب موصوف کارکن کو قانونی طور پر برطانیہ میں قیام کی اجازت حاصل ہو گئی ہے، جو کہ ہانگ کانگ میں بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ اور حکومتی کریک ڈاؤن کے تناظر میں ایک بڑی راحت کی خبر ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو امیگریشن کے سخت قوانین اور کڑے مراحل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے معاملات میں میڈیا کی کوریج اور عوامی شعور بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بروقت فیصلے تبدیل کروانا ممکن ہو جاتا ہے۔