LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور مستقبل کی ملازمتیں: مارک زکربرگ کا نیا نقطہ نظر

News Image
میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے مصنوعی ذہانت کے دور میں ملازمتوں کے خاتمے کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی انسانی صلاحیتوں کو محدود کرنے کے بجائے نئے تخلیقی شعبوں کی بنیاد رکھے گی۔
سپر انٹیلیجنس یعنی ایسی ٹیکنالوجی جو انسانی علمی صلاحیتوں سے تجاوز کر سکتی ہے، کے عروج نے دنیا بھر میں ملازمتوں کے خاتمے کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ بہت سے ماہرین اس بات پر متفکر ہیں کہ کہیں مصنوعی ذہانت انسانوں کی جگہ نہ لے لے یا ٹیکنالوجی کا بے قابو ہونا کسی تباہ کن صورتحال کا پیش خیمہ نہ بنے۔ تاہم، میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے ان تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے ایک بالکل مختلف اور پرامید نظریہ پیش کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ آنے والا دور مایوسی کا نہیں بلکہ ملازمتوں کی بہتات کا دور ہوگا۔ مارک زکربرگ کے مطابق، جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کرے گی، انسانوں کے لیے کام کرنے کے نئے اور ایسے شعبے سامنے آئیں گے جن کا آج تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت انسانی لیبر کو ختم کرنے کے بجائے انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید نکھارے گی اور لوگوں کو ان کاموں پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملے گا جو پہلے کبھی ممکن نہ تھے۔ زکربرگ کی یہ پیش گوئی اس تناظر میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے کہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے اثرات کو لے کر ایک بحث جاری ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ملازمتوں کی اقسام میں تبدیلی آئے گی، جس سے عالمی معیشت میں مزید بہتری اور ترقی کے نئے راستے کھلیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ روایتی ملازمتوں کے طریقے بدلیں گے، لیکن ٹیکنالوجی سے لیس ایک جدید معاشرہ نئی مہارتوں اور پیشوں کا متقاضی ہوگا، جس سے روزگار کے مواقع پہلے سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ آخر میں، زکربرگ کا یہ مثبت پیغام ان لوگوں کے لیے ایک تسلی ہے جو ٹیکنالوجی کے غلبے سے خوفزدہ ہیں۔ ان کے مطابق انسانی ذہانت اور مصنوعی ذہانت کا اشتراک مستقبل میں ایک ایسے دور کا آغاز کرے گا جہاں انسانوں کے پاس اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ٹیکنالوجی ایک بہترین ٹول کے طور پر دستیاب ہوگی۔