LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی ٹرتھ سوشل پوسٹس اور اسٹاک مارکیٹ پر اثرات

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹرتھ سوشل پر کی جانے والی پوسٹس اب سرمایہ کاروں کو کچھ ملی سیکنڈ پہلے مہنگی سبسکرپشن کے ذریعے حاصل ہو سکیں گی۔ ماہرین نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے مارکیٹ میں غیر منصفانہ تجارتی رجحانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹرتھ سوشل' نے ایک ایسا نیا کاروباری ماڈل متعارف کرایا ہے جو براہ راست عالمی اسٹاک مارکیٹس پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اب سرمایہ کار اور ٹریڈرز ایک لاکھ ڈالر ماہانہ تک کی بھاری رقم ادا کرکے ٹرمپ کی پوسٹس تک عام صارفین سے چند ملی سیکنڈ پہلے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو بازار حصص میں ہونے والی ہلچل کا فائدہ اٹھانے کے لیے ٹرمپ کے بیانات پر نظر رکھتے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور مالیاتی ماہرین کے مطابق، یہ ملی سیکنڈز کا وقفہ ہائی فریکوئنسی ٹریڈنگ کرنے والوں کے لیے منافع کمانے کا ایک بہت بڑا موقع ہو سکتا ہے۔ اس پیش رفت نے مالیاتی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے اس طرح کی 'رفتار پر مبنی' معلومات کی فروخت مارکیٹ کی شفافیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ پلیٹ فارم صرف ٹرمپ کے سیاسی بیانات کا ذریعہ ہے یا اسے ایک ایسے تجارتی ٹول کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جو مخصوص سرمایہ کاروں کو دوسروں پر برتری فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ انتظامیہ نے اس پر کوئی واضح موقف نہیں دیا، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس سے مارکیٹ کے عام شرکاء کے لیے غیر مساوی حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک لاکھ ڈالر ماہانہ کی سبسکرپشن فیس یہ ظاہر کرتی ہے کہ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس اب صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں بلکہ وہ مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بننے والی ایک اہم طاقت بن چکے ہیں۔ جب ٹرمپ کوئی بیان جاری کرتے ہیں تو اکثر اس کے فوری اثرات کمپنیوں کے شیئرز پر پڑتے ہیں۔ اب جبکہ کچھ افراد کے پاس یہ خبر پہلے پہنچے گی، تو وہ مارکیٹ کے ردعمل سے پہلے اپنی پوزیشنز درست کر سکیں گے۔ یہ صورتحال ریگولیٹری اداروں کے لیے بھی چیلنج کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ یہ عمل ممکنہ طور پر 'ان سائیڈر انفارمیشن' کے دائرہ کار میں آ سکتا ہے۔ مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا امریکی اسٹاک مارکیٹ کے ریگولیٹرز اس معاملے پر کوئی قدغن لگاتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال، ٹرتھ سوشل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی اور فنانس کے امتزاج کا ایک نیا رخ پیش کر رہا ہے، جس میں معلومات کی رفتار کو ہی سب سے بڑی کرنسی قرار دیا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار برادری میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر کچھ مخصوص طبقے کو معلومات جلد ملیں گی تو عام خوردہ سرمایہ کاروں (retail investors) کے نقصانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔