LIVE
Loading Breaking News...

ایکواڈور منشیات جنگ اور گینگ رہنما کا انٹرویو

News Image
ایکواڈور میں منشیات کی خلاف جاری جنگ کے دوران صحافی اورلا گیرن نے ایک خطرناک گینگ کے سرغنہ سے خصوصی بات چیت کی۔ اس انٹرویو میں پُرتشدد کارروائیوں، منشیات کی تجارت اور پولیس محکمے میں مجرموں کی مبینہ دراندازی کے امور پر روشنی ڈالی گئی۔
لاطینی امریکی ملک ایکواڈور اس وقت منشیات کی لعنت اور اس سے جڑے ہولناک تشدد کی لپیٹ میں ہے، جہاں صورتحال دن بہ دن گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ بی بی سی کی معروف صحافی اورلا گیرن نے ملک کے دل میں موجود اس بحران کا گہرائی سے جائزہ لینے کے لیے ایک خطرناک گینگ کے رہنما سے آمنے سامنے بات چیت کی ہے۔ اس ملاقات کے دوران گینگ سرغنہ نے اعتراف کیا کہ کس طرح جرائم پیشہ گروہ ملک کے نظام کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں اور معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکے ہیں۔ بات چیت کے دوران منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ، سڑکوں پر جاری خونی جھڑپیں اور عام شہریوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات زیر بحث آئے۔ گینگ کے اس سرغنہ نے بتایا کہ ان کے نیٹ ورک کتنے وسیع ہو چکے ہیں اور وہ کس طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایکواڈور کے موجودہ حالات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ریاست کو ملک کے کونے کونے میں منشیات کے کارٹلز کی جانب سے شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس گفتگو کا ایک انتہائی تشویشناکپہلو پولیس محکمے میں گینگ کی مبینہ دراندازی کا انکشاف تھا۔ رپورٹ کے مطابق جرائم پیشہ عناصر نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر رس رسوخ رکھتے ہیں بلکہ تحقیقات اور سیکورٹی آپریشنز سے پہلے ہی باخبر ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال نے ایکواڈور کی حکومت اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر بڑے سوالیہ نشان لگا دیے ہیں اور ملک کو ایک طویل بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر جامع اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو ایکواڈور کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک منشیات زدہ خطوں میں ہونے لگے گا۔ حکومت کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج نہ صرف گینگسٹرز کے نیٹ ورک کو توڑنا ہے بلکہ اپنے ہی اداروں کے اندر موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچانا ہے تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔