LIVE
Loading Breaking News...

سان فرانسسکو کے بارز میں فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی پر پابندی

News Image
کیلیفورنیا کے دو مشہور نائٹ کلبوں نے پرائیویسی کے خدشات اور عوامی بائیکاٹ کے باعث چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کا استعمال بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ مقامی صارفین کی جانب سے سخت احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے جنہوں نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو میں واقع دو انتہائی مشہور نائٹ کلبوں 'بیڈ لینڈز' (Badlands) اور 'ٹوڈ ہال' (Toad Hall) نے اپنے ہاں نصب چہرے کی شناخت کرنے والے متنازعہ نظام (Facial Recognition Technology) کو فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مقامی لوگوں کی جانب سے شدید ردعمل اور سخت احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں شہریوں نے مذکورہ ٹیکنالوجی کو ذاتی زندگی میں مداخلت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بائیکاٹ شروع کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ ان کلبوں کی جانب سے کسٹمرز کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ نظام نصب کیا گیا تھا، جس کا مقصد ممکنہ طور پر سکیورٹی کو بہتر بنانا تھا، تاہم اس اقدام سے عوامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا ہو گئی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اس قسم کی نگرانی سے نہ صرف لوگوں کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے بلکہ اس سے ڈیٹا کے غلط استعمال کا بھی خطرہ رہتا ہے۔ سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی مہم کے بعد صارفین نے ان کلبوں کا رخ کرنا چھوڑ دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ پر دباؤ بڑھ گیا اور انہیں اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے صارفین کے جذبات کا احترام کرتے ہیں اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے اس ٹیکنالوجی کو ہٹانا ضروری سمجھتے ہیں۔ تکنیکی ماہرین کا ماننا ہے کہ عوامی مقامات پر فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا بے دریغ استعمال مستقبل میں مزید قانونی اور اخلاقی بحثوں کو جنم دے سکتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے کہ کاروباری اداروں کو سکیورٹی کے نام پر شہریوں کی نجی زندگی کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔ فی الحال سان فرانسسکو کے ان دونوں مشہور کلبوں نے اپنے سکیورٹی پروٹوکولز کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ پرائیویسی کے حقوق کو یقینی بناتے ہوئے پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس فیصلے کو عوامی بیداری کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے اور دیگر اداروں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں اخلاقی حدود کا خیال رکھیں۔