LIVE
Loading Breaking News...

ناسا کا 150 پیٹا بائٹس ڈیٹا اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے دریافت ہوگا

News Image
امریکی خلائی ادارے ناسا نے دہائیوں پر محیط 150 پیٹا بائٹس سے زائد ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے کھنگالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پوشیدہ سائنسی معلومات اور اہم دریافتوں تک رسائی حاصل کرنا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران خلائی مشنز کے ذریعے 150 پیٹا بائٹس سے زائد ڈیٹا اکٹھا کیا ہے، جو انسانی تاریخ کے سب سے بڑے سائنسی ذخیروں میں سے ایک ہے۔ نومبر 2025 میں وائٹ ہاؤس کے ایک نئے اقدام کے تحت اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس وسیع و عریض ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید الگورتھمز کے ذریعے کھنگالا جائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ڈیٹا میں ایسی معلومات چھپی ہو سکتی ہیں جو کینسر کے علاج یا فیوژن انرجی جیسے پیچیدہ سائنسی مسائل کا حل فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس منصوبے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ناسا کا موجودہ ڈیٹا اتنا وسیع ہے کہ اسے انسانی ہاتھوں سے یا روایتی سائنسی طریقوں سے مکمل طور پر جانچنا تقریباً ناممکن ہے۔ دہائیوں پر محیط مشنز، سیٹلائٹ امیجری اور خلائی دوربینوں سے حاصل کردہ ڈیٹا میں ایسے پیٹرنز موجود ہیں جو انسانی آنکھ سے اوجھل رہ گئے تھے۔ اب مصنوعی ذہانت کی جدید مشین لرننگ صلاحیتیں ان ڈیٹا سیٹس کو سیکنڈوں میں تجزیہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں، جس سے سائنسی تحقیق میں ایک نیا انقلاب آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ محققین کے مطابق، اگر اس ڈیٹا کو صحیح طریقے سے پروسیس کیا جائے تو یہ خلائی سائنس کے علاوہ طبی اور توانائی کے شعبوں میں بھی گیم چینجر ثابت ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس پہل کا مقصد نہ صرف خلائی تحقیق کو تیز کرنا ہے بلکہ ان وسائل کو استعمال میں لانا ہے جو طویل عرصے سے ناسا کے آرکائیوز میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ تکنیکی پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اب ہم صرف نئے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بجائے اپنے پاس موجود پرانے ڈیٹا سے بھی زیادہ استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں ناسا کی جانب سے اس پروجیکٹ کے تحت مصنوعی ذہانت کے مختلف ماڈلز کو تعینات کیا جائے گا جو کائناتی شعاعوں سے لے کر سیاروں کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں تک ہر چیز کا گہرائی سے مطالعہ کریں گے۔ ماہرین اس بات پر پرامید ہیں کہ اس ڈیجیٹل کھوج کے نتیجے میں ہمیں کائنات کے بارے میں ایسے انکشافات ملیں گے جو انسانیت کے مستقبل کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوں گے۔ یہ اقدام سائنسی برادری کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے کہ ڈیٹا کی دنیا میں چھپے جوابات اب خود بخود سامنے آ سکیں گے۔