Technology
سولر اینی ویئر ڈیٹا اور بغیر پائلٹ کے طیاروں کی پرواز: نئی تکنیکی پیش رفت
سولر اینی ویئر ڈیٹا نہ صرف بڑے سولر پاور پلانٹس کے لیے کارآمد ہے بلکہ اب بغیر پائلٹ کے طیاروں کی پرواز کے اوقات کے تعین میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔ وارسا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ماہرین اس جدید ٹیکنالوجی سے شمسی شعاعوں کے ڈیٹا کو کامیابی سے بروئے کار لا رہے ہیں۔
سولر اینی ویئر (SolarAnywhere®) کا نام عام طور پر یوٹیلیٹی اسکیل یا ڈسٹری بیوٹڈ سولر پاور پلانٹس کے ساتھ جوڑا جاتا رہا ہے، تاہم اس جدید ٹیکنالوجی کے اطلاقات اب بہت وسیع ہو چکے ہیں۔ یہ شمسی شعاعوں کا ڈیٹا فراہم کرنے والا پلیٹ فارم اب صرف توانائی کے منصوبوں تک محدود نہیں رہا بلکہ جدید سائنسی تحقیق اور ایوی ایشن کے شعبے میں بھی اپنی افادیت ثابت کر رہا ہے۔ حالیہ پیش رفت کے مطابق، یہ ڈیٹا بغیر پائلٹ کے طیاروں یعنی ڈرونز کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
وارسا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے وابستہ پیوٹر لیچوٹا (Piotr Lichota) اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک جدید تحقیقی پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ بغیر پائلٹ کے طیاروں کو کس وقت فضا میں بھیجنا سب سے زیادہ سودمند ہوگا۔ چونکہ یہ طیارے شمسی توانائی سے چلنے والے نظاموں پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے انہیں سورج کی روشنی اور شعاعوں کی شدت کا درست تخمینہ درکار ہوتا ہے۔ سولر اینی ویئر کے درست ڈیٹا کی بدولت ماہرین کو یہ تعین کرنے میں مدد ملتی ہے کہ کن اوقات میں سورج کی شعاعیں سولر پینلز کو زیادہ توانائی فراہم کریں گی، جس سے ڈرونز کی پرواز کا وقت اور دورانیہ بڑھایا جا سکتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کا استعمال ناصرف تکنیکی شعبے میں ایک بڑی پیش رفت ہے بلکہ یہ مستقبل میں ایوی ایشن اور شمسی توانائی کے ملاپ کے نئے دروازے بھی کھول رہا ہے۔ سولر اینی ویئر کے ذریعے حاصل ہونے والا ڈیٹا پیچیدہ موسمیاتی حالات میں بھی درستگی کی ضمانت دیتا ہے، جس سے بغیر پائلٹ کے طیاروں کے مشنز کی کامیابی کا امکان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہ تحقیق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کس طرح ڈیٹا سائنس اور سولر ٹیکنالوجی کا اشتراک صنعتی اور سائنسی تحقیق کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔
مستقبل قریب میں ہم توقع کر سکتے ہیں کہ سولر اینی ویئر جیسے سسٹمز کو دیگر شعبوں میں بھی استعمال کیا جائے گا جہاں شمسی توانائی کا درست تجزیہ درکار ہوتا ہے۔ وارسا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کی یہ کاوش دیگر ماہرین کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ کس طرح موجودہ وسائل کو نئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ جوڑ کر مشکل ترین چیلنجز کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف سولر پی وی انڈسٹری بلکہ ڈرون ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تحقیق کرنے والے اداروں کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔