World
امریکہ ایران جنگ اور امریکی ہتھیاروں کا ذخیرہ: ایک جائزہ
امریکہ نے ایران کے خلاف حالیہ تنازعے کے دوران ہزاروں ایسے میزائل فائر کیے ہیں جن کا متبادل تلاش کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا واشنگٹن کا دفاعی ذخیرہ واقعی خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے تناظر میں عالمی سطح پر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا سپر پاور امریکہ کے پاس اب جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کا خاطر خواہ ذخیرہ باقی بچا بھی ہے یا نہیں۔ جنگ کے دوران امریکی افواج نے ہزاروں کی تعداد میں ایسے پیچیدہ اور مہنگے میزائل استعمال کیے ہیں جن کی تیاری اور تنصیب ایک طویل اور پیچیدہ عمل کا تقاضا کرتی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہتھیاروں کا متبادل فوری طور پر تیار کرنا دفاعی صنعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
امریکہ کے روایتی دفاعی ذخائر، جنہیں اکثر 'آزادی کا ہتھیار خانہ' بھی کہا جاتا ہے، پر اس طویل کشیدگی کے نتیجے میں گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اسمارٹ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے گولہ بارود کی کھپت اس کی پیداواری صلاحیت سے کہیں زیادہ تیزی سے ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پینٹاگون کے اندرونی حلقوں میں بھی اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر جنگ طویل ہوتی یا اس کا دائرہ کار مزید پھیلتا تو سپلائی چین میں شدید تعطل آ سکتا تھا۔
دوسری جانب، امریکی عسکری حکام اور حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ ملک کی دفاعی صلاحیتیں اب بھی مکمل طور پر مستحکم ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پلان موجود ہے۔ تاہم، دفاعی تجزیہ کار اس دعوے کو محتاط نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں دیگر محاذوں پر بھی امریکی ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی جاری ہے۔ اس صورتحال نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا امریکہ اپنی عسکری برتری کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی جنگی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی لانے پر مجبور ہو گا یا نہیں۔